cm-punjab-shahbaz-sharif

شہباز شریف نے مریضوں کو گھروں پر ادویات کی فارہمی کے پروگرام پر عملدرآمد کی منظوری دیدی

لاہور(ہاٹ لائن)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت تعطیل کے روز بھی چارگھنٹے طویل اجلاس ہوا،جس میں صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کو بہترسے بہتر بنانا میرا مشن ہے اور مریضوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کا مشن ہر حال میں مکمل کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے سزا اور جزا کا کڑا نظام ضروری ہے ۔ ڈاکٹروں،نرسوں ،پیرا میڈیکل سٹاف اوردیگر عملے کی اچھی کارکردگی پر بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی اوراس ضمن میں پنجاب حکومت ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے پرفارمنس ایوارڈ کا اجراء کرے گی ۔وزیراعلیٰ نے’’پرفارمنس ایوارڈ ‘‘کا میکانزم مرتب کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ۔کمیٹی اس پروگرام کو حتمی شکل دے کر جلد سفارشات پیش کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے ڈاکٹروں، نرسوں ، پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر عملے کونقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹس دیئے جائیں گے ۔کارکردگی جانچنے کیلئے ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور ان کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں ضلع ، ڈویژن اور صوبائی سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے مریضوں کو ان کے گھر پر ادویات کی فراہمی کے نئے نظام پر عملدر آمد کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہر سال سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اربوں روپے کی ادویات مفت فراہم کر رہی ہے اوراس مقصد کے لئے رواں سال بھی چھ ارب روپے کی ادویات خریدی جا رہی ہیں ۔ ادویات کی خریداری ، سٹوریج اور ترسیل کا نیا فول پروف نظام لایا جا رہا ہے ۔ نئے نظام کے تحت مریضوں کو ادویات ان کی دہلیز پر ملیں گی،جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بھی کم ہوگا۔نئے نظام سے ادویات کی خرد برد اور چوری جیسی قباحتوں کا خاتمہ ہو گا ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ادویات کی سٹوریج اورترسیل کے نئے نظام کوجلدحتمی شکل دے کر اس پر عملدرآمد شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی خریداری و ترسیل بڑا چیلنج ہے اور اس سے بطریق احسن عہدہ برآ ہونا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل و ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں نجی شعبہ سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس لئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر پانچ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور تین تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتالوں کیلئے ایم ایس نجی شعبے سے لئے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہسپتالوں کے نظام میں بہتری لانے کیلئے اصلاحات پر تیزرفتاری سے کام کا آغاز کردیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈر کوارٹرہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں فراہم کر رہی ہے ۔ ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی پنجاب حکومت کا انقلابی اقدام ہے اوران ہسپتالوں میں سی ٹی سکین کی سہولت بلا تعطل 24 گھنٹے دستیاب ہوگی۔ ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی عوامی خدمت کا بڑا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کو با اختیار بنانے کیساتھ جوابدہ بھی بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 25 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور 15 تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کے انفرسٹرکچر کو بہتر بنایا جا رہا ہے ۔ ان ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر کو بہتربنانے کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے کام میں ایک لمحے کی تاخیر بھی برداشت نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز ہسپتالوں میں فارمیسی کھلی ہونی چاہیے اور سٹورکیپر بھی موجود ہوتا کہ مریضوں کو کوئی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ مریضوں کو اچھی طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے انتہائی تیزرفتاری سے آگے بڑھنا ہے ۔مسلسل محنت کامیابی کی ضمانت ہے ، ہمیں محنت سے کام کرتے ہوئے ہسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانا ہے ۔ صحت مند قوم سے صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے ، صحت عامہ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لئے جتنے وسائل درکار ہوں گے، دیں گے ۔ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق ، چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ، سیکرٹریز صحت ، پی اینڈ ڈی، خزانہ ، ماہرین صحت اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک سے بجلی کے اندھیرے ہمیشہ کیلئے چھٹ جائیں گے۔سی پیک کے تحت 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں ہو رہی ہے۔ سی پیک کے تحت سندھ، بلوچستان، کے پی کے، پنجاب سمیت ملک بھر میں بجلی کے منصوبے لگ رہے ہیں۔ گزشتہ پندرہ سولہ سال سے جاری لوڈشیڈنگ نے قومی معیشت کا جنازہ نکال دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت ،شفاف اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا ہے۔ مخالفین ترقیاتی منصوبوں میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کرسکتے۔ماضی میں کوئی ایسا منصوبہ نہیں جو بروقت مکمل ہوا ہو۔ پنجاب حکومت ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرکے نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،جس نے ان سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف جب ملک ترقی اورخوشحالی کی راہ پرگامزن ہوچکا ہے تو دوسری طرف اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی دے کرپاکستان کے خلاف ناپاک سازش کی جارہی ہے ۔ اسلام آبادبند کرنے کی دھمکی دینے والے پاکستان سے کھلی دشمنی کررہے ہیں ۔یہ شکست خوردہ عناصر پاکستانی عوام کی ترقی اورخوشحالی کا دھڑن تختہ کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں ۔ اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کا دروازہ بند کرنے کی سازش ہے اور ان شکست خوردہ سیاسی عناصر کے غیر جمہوری ہتھکنڈے پوری قوم کے سامنے آشکار ہوچکے ہیں ۔ تحریک انصاف اپنے نام کے برعکس نا انصاف پارٹی بن چکی ہے اوراس جماعت نے انصاف کے ہر فورم پر ہونے والے فیصلوں کو ماننے سے انکار کیا ہے ۔ باشعور پاکستانی عوام شکست خوردہ عناصرکو ہر سطح پر مسترد کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2014 میں دھرنوں اور احتجاج کی سیاست نے قومی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایااور آج سی پیک کے منصوبوں کی خارجی اور اندرونی سطح پر مخالفت ہو رہی ہے۔ اگر اس وقت دھرنے نہ دیئے جاتے تو کئی منصوبے اب تک مکمل ہوچکے ہوتے۔دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کے ذریعے ترقی کا راستہ روکنا ایک بڑا جرم اور پاکستان کے 20 کروڑ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ ترقی کا عمل روکنے والوں کا عوام خود محاسبہ کریں گے۔ سی پیک پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے، اس کی مخالفت درحقیقت پاکستان کی ترقی کی مخالفت ہے۔پاکستان کے باشعور عوام کسی کو بھی ترقی کا راستہ روکنے نہیں دیں گے۔