عمان کا ایسا فیصلہ کہ ہر غیر ملکی پریشان

مسقط (ہاٹ لائن ) تیل کی آمدنی پر انحصار کرنے والے عرب ممالک کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہونے والی غیر معمولی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ،لیکن بدقسمتی سے ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے غیر ملکیوں کے ساتھ ایسا سلوک شروع ہو گیا ہے کہ ان کی زندگی ہر آنے والے دن کے ساتھ مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ ایک ایسا ہی قدم حکومت عمان بھی اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے مطابق غیر ملکیوں کو جاری کئے جانے والے ورک پرمٹ کی فیس میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ حکومت کو اس ذریعے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔ گلف نیوز کے مطابق فیس میں اضافے کا اطلاق 2017ءکے آغاز سے متوقع ہے۔ عمان کے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جہاں ایک جانب حکومت کو زیادہ رقم حاصل ہوگی وہیں عمان کے شہریوں کے لئے ملازمت کے مواقع میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ یہ مواقع خصوصی طور پر مینجمنٹ لیول پر دستیاب ہوں گے۔ موجودہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت مینجمنٹ کی تقریباً 2لاکھ 10ہزار آسامیوں پر کام کرنے والے افراد میں عمانی شہریوں کی تعداد صرف 4.8 فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورک پرمٹ کی فیس میں اضافے کی وجہ سے اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے غیرملکیوں کی تعداد میں کمی آئے گی، جس کا براہ راست فائدہ عمان کے شہریوں کو ہوگا، جبکہ دوسری جانب ورک پرمٹ کی فیس میں اضافے کی صورت میں حکومت کو ہر سال مزید لاکھوں ریال بھی حاصل ہوں گے۔