کراچی میں فرقہ وارانہ تنظیموں اور93 مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن، 86 گرفتار

کراچی (ہاٹ لائن ) کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد میں ایک درجن افراد سے زائد ہلاکتوں کے بعد سندھ حکومت نے کراچی کے93مدارس اورگردونواح کے علاقوں میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق جن مدارس کے خلاف آپریشن شروع کا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سلسلے کی پہلی کارروائی کا آغاز اتوار کو علی الصباح کیا گیا جب پولیس نے رینجرز کے ہمراہ شیعہ اسکالر علامہ مرزا یوسف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اورانھیں حراست میں لے لیا۔ بعدازاں پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے متصل امام بارگاہ کی تلاشی لی، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رضویہ امام بارگاہ میں بھی آپریشن کیا اور 4 دیگر مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر ان کے پاس موجود لٹریچر تحویل میں لے لیا۔ بعدازاں پولیس کی ایک بھاری نفری ناگن چورنگی پر صدیق اکبر مسجد کی عمارت میں داخل ہوئی۔ یہ مسجد اہلسنت والجماعت(ASWJ) کا گڑھ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں سے پولیس نے اہلسنت والجماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا تاج حنفی اور10 دیگر افراد کو حراست میں لے کرانھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ’’مذہبی مدارس کی جیوٹیگنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈی جی رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد پولیس اور رینجرز کو احکام جاری کیے ہیں کہ وہ دہشت گرد عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کریں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی زیرنگرانی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو حال ہی میں افغانستان کے دورے کے بعد وطن واپس لوٹی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں حالیہ ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے ایک سینئرعہدیدار نے بتایا کہ’’وہ علما اور ان کے مدارس جو فورتھ شیڈول میں شامل ہیں ان مدارس اور ان کے اساتذہ کوکوئی سیکیورٹی فراہم ک نہیںکی جائے گی نہ ہی ان علما سے اہم لوگوں کی طرح کا کوئی سلوک ہوگا۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایسے3ہزار عادی مجرموں اور 14سو مشتبہ مذہبی دہشت گردوں کو گرفتارکرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو ضمانت پر رہا ہیں لیکن مقدمات کی سماعت پر نہیں آتے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے حکام کو ہدایت کی کہ ’’مہربانیان 93 مدارس کے اردگردتعمیر کی گئی رہائشی عمارتیں اور کوارٹرزکومنہدم کردیں کیونکہ یہاں مشتبہ افراد کو پناہ ملتی ہے‘‘۔
کراچی میں فرقہ وارنہ دہشت گردی کی لہر کا آغاز محرم میں ہوا تھا جب گلستان جوہرکی امام بارگاہ کے ٹرسٹیکو نشانہ بنایا گیا۔اس واقعے کے بعد ایک اور واقعہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے جاوید رضا رضوی کو گلشن اقبال میں 11اکتوبر کو نشانہ بناکر قتل کر دیا گیاجبکہ لیاقت آباد امام بارگاہ پر دستی بمکا حملہ ہوا۔جس سے ایک 12سالہ کمسن لڑکا اپنی جان سے گیا جبکہ 18دیگر افراد زخمی ہوئے۔سب سے بڑی واردات 20اکتوبر کوہوئی جبنامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ناظم آباد میں شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کو مجلس کے دوران قتل کر دیا۔ 4نومبر کو اہلسنت والجماعت کے اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے6ارکان کوکراچی کے3مختلف علاقوں شفیق موڑ ، فیڈرل بی ایریا اور پٹیل پاڑہ میں قتل کے بعد صورتحال سخت کشیدہ ہوگئی۔ ڈی آئی جی سینٹرل ذوالفقار لاڑک نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے اس امر پر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے کہ یہ تینوں واقعات خالصتاً فرقہ واریت کاشاخسانہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ’’کوئی تیسری قوت شیعہ اور سنیوں کے قتل میں ملوث ہے تاکہ کراچی میں امن و امان کی صورحال کو خراب کیا جا سکے‘‘ تاہم انھوں نے اس تیسری قوت کی نشاندہی نہیں کی۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز سے وضاحتی طلب کیہے کہ وہ ٹارگٹ کلنگ روکنے میں کیوں کر ناکام رہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھاآپ فرائض کی انجام دہی میں آپ کی سستی کا پتہ چلتا ہے کہ ٹارگٹ کلر آزاد پھر رہے ہیں اور وہ لوگوں کو قتل کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ شیعہ اور سنیوں کوکسی ایک ہی گروپ نے ٹارگٹ کیا ہے ۔
ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر نے وزیراعلیٰ کوابتدائی انکوائری رپورٹ پیش میں بتایا کہ ’’مشتبہ ملزمان نے ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات میں موٹر سائیکلیں تو تبدیل کیں تاہم ہتھیار ایک جسیا ہی استعمال کیا‘‘۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مہرکی انکوائری رپورٹ پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پولیس حساس علاقوں میں گشت کیوں نہیں کر رہی۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے کہ وہی مجرم صرف موٹرسائیکلیں تبدیل کرکے ایک کے بعد دوسرے علاقے میں لوگوں کو قتل کرنے نکلجاتے ہیں اور انھیں نہ تو پولیس کا خوف ہے اور نہ ہی دیگر ایجنسیوں کا ڈر،یہ بہت ہی حیران کن بھی ہے اور ناقابل قبول بھی ہے‘‘۔ہلاکتوں کے بعدشہر میں دونوں فرقوں کے ارکان میں کشیدگی غالب ہے اور رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مزید کسی ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔
شہر قائد میں گزشتہ 20 روز کے دوران فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ اور بم حملے میں 13 افراد کی ہلاکت کے بعد حساس اداروں، رینجرز اور پولیس نے مذہبی تنظیموں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے شیعہ اور سنی تنظیم کی2 اہم شخصیات سمیت86 افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش شروع کردی، حراست میں لیے جانیوالوں میں کالعدم لشکر جھنگوی اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد بھی شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق قانون نافد کرنیوالے اداروں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ناظم آباد میں قائم نورایمان مسجد پر چھاپہ مارکر مسجد کے خطیب و آل پاکستان شعیہ ایکشن کمیٹی کے صدر مرزا یوسف حسین کوحراست میں لیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ مسجد سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ، اس کارروائی کے بعد رینجرز ، پولیس اور حساس اداروں نے رضویہ امام بارگاہ میں کارروائی کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے چار کارکنان بلال ، اکبر ، باقر اور راجہ کو حراست میں لیکر انکی نشاندہی پر اسلحہ برآمدکیا ، رضویہ کے علاقے علی بستی سے سپاہ محمد سے تعلق کے شبے میں 4افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔
اتوار کی صبح رب نواز حنفی اورعبدالغفور ندیم کے بیٹے شعیب ندیم کی گرفتاری کیلیے ناگن چورنگی میں مسجد صدیق اکبر پرچھاپہ مارا گیا تاہم مذکورہ افراد کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تاہم ذرائع کاکہنا ہے کہ مسجد سے مبینہ طورپر اسلحہ اور اشتیعال انگیز پمفلٹ و دیگر مواد برآمد ہوا ، ذرائع نے بتایا کہ حساس اداروں نے لیاری کے علاقے کلری اہلسنت والجماعت کے جنرل سیکریٹری تاج محمد حنفی کو گھرسے حراست میں لیا گیا جبکہ ناظم آباد رضویہ سوسائٹی کے ایک مقام پر چھاپہ مار کر کالعدم لشکر جھنگوی کے اہم کارندے عمر حیات کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ، لیاقت آبادٹاؤن پولیس نے اعظم نگرکے ملحقہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران 18 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔کورنگی ڈویژن پولیس نے زمان ٹاؤن ، کورنگی ناصر کالونی و یگر علاقوں کومبنگ آپریشن کے دوران8افراد کو حراست میں لے لیا، ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کی خصوصی ٹیم نے نیوکراچی کے علاقے گودھراکالونی سے کالعدم لشکر جھنگوی سے رابطے و تعلق کے شبے میں35افراد کو حراست میں لے لیا ۔سعید آباد ڈویژن پولیس کی بھاری نفری اور آرآر ایف کے کمانڈوز نے بلدیہ کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 14مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش شروع کردی ، دریں اثنا نیٹ نیوز کے مطابق کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز سے ان کے متعلقہ علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے میں ناکامی پر وضاحت طلب کرلی ہے۔