وزیراعظم کو کم وقت کا بڑا چیلنج

پاکستان پر مسلط اسٹیٹس کو اور داخلی حالاتِ حاضرہ کی جملہ پیچیدگیوں کے باوجود موجود اور بنتی صورتحال روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ مستقبل قریب کے عمل میں ڈھلتے تعمیر پاکستان کے امکانات تیزی سے آشکار ہو رہے ہیں۔ مستقبل بعید کا انحصار اسی پر ہو گا کہ ہم حوصلہ افزا بنتے مواقع کا بطور قوم کیسے اور کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اب تک 73سال کا کفرانِ نعمت سبق کے لئے کافی ہے۔

برپا ہوتے زرعی اور صنعتی انقلاب کا ریورس، کالا باغ ڈیم جیسے قومی ترقیاتی ثمر آور منصوبے کی ’’معنی خیز‘‘ علاقائی سیاسی مزاحمت کرکے دریائے سندھ کے 80فیصد پانی کو بلااستعمال سمندر میں بہانا ہماری قومی بدبختی نہیں؟ عشروں سے ترقیاتی عمل کا رخ عوام سے گھڑے سیاسی خاندانوں کی طرف ہو جانا، ارتقا پذیر نظام تعلیم و صحت اور بار بار چلتے بلدیاتی نظام میں غیرآئینی رکاوٹیں ڈال کر کرپٹ سیاسی حکومتوں کا فلاحِ عامہ اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا انتظام بھی اپنے ہی ہاتھ میں لینا، انتظامیہ کو شریکِ جرم بنا کر قومی خزانے کی کھلی لوٹ مار اور بابائوں کے مکمل گٹھ جوڑ سے کرپشن کلچر کی مجرمانہ تشکیل اور آج اس کی قائم دائم طاقت و مزاحمت، اب سب ثابت شدہ اور ناقابلِ تردید ہے۔

ملکی اداروں کا شاخسانہ، باہمی اعتماد اور اپنا اندرونی تنظیمی استحکام بھی ہر دم ڈگمگاتا رہتا ہے۔ پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ تینوں اپنا آئینی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ تبدیلی سرکار کی حکمرانی اور اپوزیشن کی حیثیت و اہمیت کے حوالے سے ہر دور میں جملہ خامیاں ایک دوسرے پر ہی نہیں عوام اور میڈیا پر بھی مکمل عیاں ہیں، جس سے سیاسی و اقتصادی استحکام کا مطلوب کم از کم معیار بھی قائم کرنے میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کو شدید مشکل پیش آ رہی ہے۔

جمہوری و سیاسی عمل، درجنوں سنگین الزامات سے لتھڑے دو سیاسی خاندانوں میں مرتکز ہو گیا۔ اس چیلنج سے جو تبدیلی آئی بھی وہ اپنے ادھورے پن اور کمزوریوں او رخامیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کر پا رہی تو ملک میں مطلوب تبدیلی کیا برپا کرے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اٹھانا بنتا ہے اور وزن بھی رکھتا ہے۔

جناب وزیر اعظم! جاری آئینی مدت کی مزید اڑھائی سالہ حکمرانی کے لئے آپ یہ ذہن نشین کر لیں کہ آپ نے لاہور کے اکتوبر 11کے جلسے میں قوم کو تبدیلی کا سونامی آنے کی جو نوید سنائی تھی، وہ آپ کے انتہائی خستہ ملکی اقتصادی حالت میں اقتدار سنبھالتے ہی عوام کی انتہائی جائز توقعات کے سونامی میں ڈھل گیا تھا لیکن پپھر یہ مسلسل ریورس ہونے لگا اور آپ کے ابتدائی انتظامی اقدامات خصوصاً مایوس کن ٹیم کی تشکیل سے توقعات کا سونامی تیزرفتار سے واپس ہونے لگا، ضمنی انتخابات کے نتائج اس کا واضح اظہار ہیں۔

تبدیلی پروگرام تو آپ کے پاس تھا ہی کوئی نہیں، عوامی فلاح کا مبالغہ آمیز ایجنڈا فقط روایتی انتخابی نعرے ثابت ہوئے۔ اس پر کوئی بھی تو ہوم ورک نہ ہوا تھا۔ جن نابغہ روزگار وفاقی ساتھیوں کے ساتھ آپ نے اقتدار میں آکر تبدیلی کا سفر شروع کیا، یہ عیاں ہے کہ انہیں جو جو وزارت دی گئی اور پھر تبدیل کرکے دوسری دی گئی، انہیں اسے بڑھانے اور تبدیل کرنا تو کجا معمول کے مطابق بھی چلانا نہیں آیا۔ ملک کو کرکٹ ٹیم کے طور چلانے کی پھبتی اب کوئی صحافتی تجزیہ نہیں اسٹریٹ نیریٹو بن چکا ہے۔

آپ کے وزیروں، مشیروں کی ڈلیوری اب مکمل بےنقاب اور مایوس کن ہے۔ نیب عدالتی نظام کی کپیسٹی بلڈنگ اور اصلاح اور مطلوبہ قانون سازی کے بغیر لاحاصل احتسابی عمل بڑے ’’زور شور‘‘ کے ساتھ جاری ہے اور شہزاد اکبر صاحب کے گھنٹہ گھر کے گرد منڈلا رہا ہے۔

اس سب کے باوجود ’’خان صاحب آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘۔ آپ کی خوبیاں آپ کے پاس، آپ کا ا ستقلال، آپ کی نیت، دیانت، عوام سے ہمدردی، کچھ غیرروایتی فلاحی اقدامات کے ابتدائی اقدامات اور سب سے بڑھ کر دوست اور ہمارے دوست و دشمن ممالک میں آپ کی اہمیت قبولیت اور عدم قبولیت، گزرے حکمرانوں کے برعکس بلند امیج، عزت، نام، سحر یہ وہ ملکی سیاسی حکومتی سرمایہ ہے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے اور ان شاء اللہ بدلے گا۔

آپ دل کے مضبوط ہیں، سو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دل تھام کر سنیں، ہے تو کڑوا لیکن ہے سچ۔ آپ کے اپنے وزیروں، مشیروں سے تو کچھ ہوا نہ ہوگا، نہ وہ کر سکتے ہیں۔ یقین جانئے اس سے کہیں بہتر کارکردگی اب وزیراعلیٰ بزدار کی سامنے آتی جا رہی ہے، پتہ نہیں یہ آپ کے ان کے ساتھ جڑے رہنے کا کمال ہے یا اس نیک نیتی کا کہ پسماندہ علاقے کی نمائندگی سے پنجاب جیسے طاقتور صوبے میں تبدیلی لانی ہے۔

وفاقی کابینہ کی مجموعی کارکردگی سے بہتر کارکردگی مجھے تو اب پنجاب حکومت کی نظر آنے لگی ہے۔ اگر حالیہ اعلانات کے مطابق جنوبی پنجاب میں نتیجہ خیز انتظامی انفراسٹرکچر قائم ہو گیا۔ زراعت و صنعت اور تعلیم و صحت کے ترقیاتی پروجیکٹس علاقے کے تشخص کے مطابق SUSTAINABLEہونے کے یقین کے ساتھ شروع ہو گئے، آنے والے اڑھائی سال میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کا ہر اسکول ایج کا بچہ اسکول میں آ گیا۔ دونوں صوبوں میں پانچ سات پبلک یونیورسٹیاں اور بڑے اسپتال قائم ہو گئے۔ صحت کارڈ اسکیم 50فیصد بھی کامیاب ہو گئی۔

نیز زرعی سائنس دانوں اور توسیع زراعت کے ماہرین کے اشتراک سے روز مرہ کثرت سے استعمال میں آنے والی سبزیوں، دالوں اور اجناس کا قابلِ کاشت رقبے میں اور موجود فی کس پیداوار میں اضافہ، ڈیری کے آسان قرضوں پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ممکن بنا دیا جائے جو کہ ممکن ہے۔ پیداواری مراکز اور صارفین کو تقسیم تک سپلائی چین کا کرپشن فری اور ناجائز منافع خوری سے پاک اختراعی نظام الیکشن سے چھ ماہ پہلے بھی نتائج دینے لگا۔

ہائر ایجوکیشن میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے لئے مشرف دور کی بجٹ ترجیحات کو ہی فالو کر لیا گیا۔پنجاب اور خیبر میں ماڈل بلدیاتی نظام قائم کر دیا گیا۔ کراچی اور کوئٹہ کو انتہائی بنیادی سہولتوں کے لئے اور کچھ سندھ و بلوچستان کے دیہی علاقوں کےلئے وفاقی حکومت کے فلاحی منصوبے شروع کر دیے گئےتو نہ صرف اڑھائی سالہ کمیوںاور خامیوں، اناڑی پن کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔

تبدیلی کا سونامی نہیں لیکن تو ایک عوام دوست، ان کی مایوسی کو یقین و اطمینان میں بدلنے والا SUSTAINABLEڈویلپمنٹ پروسس شروع ہو جائے گا۔ سب سے اہم یہ کہ متذکرہ تجاویز منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کے لئے چین، روس، امریکہ، برطانیہ، یورپین یونین، ایران، ترکی، سعودی امارات، ملائیشیا جیسے دوستوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو باہمی مفادات کی بنیاد پر ضرور یاد رکھیں۔ وہ بھاری مشینری مطلوب زرعی ان پٹس، نئے زرعی رقبے بنانے اور بڑھانے، اسپتال اور یونیورسٹیوں کے انفراسٹرکچر ڈویلپ کرنے میں مشترکہ مفادات کی اپروچ سے بےحد مفید ہو سکتے ہیں۔

آپ کی ان ممالک میں نیک نامی،عزت اور اعتماد،متذکرہ تجاویز کو عمل میں ڈھالنے کے لئے تیر بہدف ہوگا۔ خان صاحب آپ نے گھبرانا نہیں ہے…وماعلیناالالبلاغ