ملالہ کا معاملہ

’’ووگ‘‘ کو انٹرویو دینے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ میں نہیں جانتا کہ اس کے والد کی یہ وضاحت کس حد تک درست ہے کہ ان کی بیٹی کے بیان یا انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔

اِس سلسلہ میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بارے میں بھی رپورٹ ہوا کہ آپ نے ملالہ کے والد سے پوچھا کہ سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ان کی بیٹی (ملالہ) نے رشتہ ازدواج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نکاح کرنے سے بہتر ہے کہ پارٹنر شپ کرلی جائے۔ مفتی صاحب کے سوال پر ملالہ کے والد نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں، ملالہ کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنی تاویلات کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

قارئین!

سب سے پہلے تو ’’نکاح‘‘ کے لغوی مفہوم پر غور فرمائیں۔ مطلب ہے ’’ملانا اور جمع کرنا‘‘۔ ’’عقد‘‘ کا مطلب ہے ’’مضبوطی سے گرہ باندھنا‘‘۔ ان لغوی معانی پر جتنا غور کرتے جائیں گے، شانت ہوتے جائیں گے۔

ملالہ اور اس کے والد نے کیا کہا! اس پر غور و فکر سے بھی شاید زیادہ ضروری ہے کہ ملالہ کے ’’بزرگوں‘‘ اور ’’بڑوں‘‘ کا رد عمل کیا تھا؟ کیسا تھا؟ اور پھر سوچتے ہیں کہ کیسا ہونا چاہئے تھا؟ کیا ہو سکتا ہے؟

کہا گیا

’’مغربی طاقتیں ملالہ جیسی ایجنٹوں کو پال کر شعائر اسلام پر حملے کراتی ہیں‘‘۔

’’مغربی تہذیب کو مسلم ممالک میں مسلط کیا جا رہا ہے‘‘۔

’’عورت مارچ میں بھی اسی قسم کی باتیں کی گئیں۔ دونوں کے بیانات دیکھیں تو تانے بانے ایک جیسے لگتے ہیں‘‘۔

سبھی کچھ صحیح ہوگا لیکن کیا اس قسم کے ری ایکشنز ہی اس قسم کے رویوں کا جواب ہیں؟ کیا ہم اتنے ہی گئے گزرے اور ہارے ہوئے لوگ ہیں، اتنے ہی اپاہج اور فکری طور پر معذور ہیں کہ ان کے ایجنٹوں کو روتے اور اپنے بگڑے بچوں کو سدھرنے کے مواقع دیے بغیر، سوچے سمجھے بغیر سفاکی سے انہیں دھتکارتے اور رائٹ آف کرتے رہیں؟

اگر یہی حکمت عملی ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ ویسے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم اتنے مضبوط، بااثر، طاقت ور اور فیصلہ کن کب سے ہو گئے کہ کسی کو ہمارے خلاف ایجنٹس بھرتی کرنا پڑیں؟ وہ تو ٹھوک بجا کر ہر کام سرعام کر رہے ہیں۔ یو این بھی ان کا، ورلڈ بینک بھی ان کا، آئی ایم ایف بھی ان کا، تمام تر ایجادات اور جدید علوم بھی ان کے، ڈالر اور پائونڈز جیسی کرنسیاں بھی ان کی، دنیا کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے بھی ان کے، ہمارے لیڈروں کی اولادیں، جائیدادیں بھی ان کے ملکوں میں، اکاؤنٹس بھی ان کے بینکوں میں، دوائیں بھی ان کی اور اب تو غذائیں بھی ان کی۔

صرف سو سال پہلے وہ ’’چائے‘‘ کہاں سے آئی جس کے بغیر اب ناشتے نہیں ہوتے؟ کون سی شے ایسی ہے جس کے گرد ہماری زندگیاں گھوم رہی ہیں اور وہ ’’مغربی‘‘ نہیں ہے۔ کیا یہ معاشرہ جھوٹ، منافقت، دکھاوے، تضادات، ملاوٹ، خوشامد، دو نمبری، دوہرے معیار، کمسن بچوں کے ساتھ زیادتیوں، قبضہ گروپوں، حرام خوری، کام چوری، اسراف، نمود و نمائش، جہالت، سطحیت، ظواہر، انتشار، ناانصافی، بھوک، ننگ، قرضوں وغیرہ وغیرہ وغیرہ میں پوری طرح لت پت اور غرق نہیں؟

شعائر اسلام کا شور تو بہت ہے لیکن کہیں دکھائی، سنائی کیوں نہیں دیتے؟ حضور! مغربی تہذیب مسلط ہو نہیں رہی، ہو چکی ہے۔ رگوں ریشوں، بافتوں، ڈی این اے میں گھس چکی ہے لیکن ہم سرابوں میں بھٹکتے ہوئے خوابوں سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ ہم سے تو اتنا بھی نہیں ہو رہا کہ اپنے پٹڑی سے اترتے ہوئے بچوں کو ہی تھام اور سنبھال سکیں۔ ٹانگ پر زخم ہو جائے تو اسے صرف اسی صورت میں کاٹا جاتا ہے جب معالج کنفرم کردے کہ زخم گینگرین میں تبدیل ہو چکا ہے۔

میں نہ ملالہ کو جانتا ہوں نہ عورت مارچ والی انتہا پسند لڑکیوں اور خواتین کو۔ میں نے بھی ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کی منطقی انداز میں دھجیاں اڑائی تھیں کہ نہ پیدا ہونے میں مرضی، نہ موت میں تو جسم پر تمہاری مرضی کہاں سے آگئی، لیکن یہ ایک اور موضوع ہے۔

اصل سوال مسئلہ کے فہم کا ہے کہ جب تک ’’مرض‘‘ کی صحیح تشخیص نہیں ہوگی، دنیا کا کوئی طبیب اس کا علاج نہیں کر سکتا اور عالمِ اسلام کے ’’امراض‘‘ کو غیرجذباتی انداز میں جاننے کے لئے عصرِ حاضر کا شعور ناگزیر ہے۔ سعودی عرب میں لائوڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر جو جزوی پابندی لگی تو خدارا سیکھو کہ ہم اسلام کے ’’اجارہ دار‘‘ نہیں، نہ ہو سکتے ہیں۔

دینِ کامل جہاں سے طلوع و شروع ہوا، وہاں کی تو دنیا ہی اور ہے۔ میرا جب شروع شروع مڈل ایسٹ خصوصاً سعودی عرب آنا جانا شروع ہوا تو میں کچھ عرصہ کے لئے ’’کومے‘‘ میں چلا گیا تھا لیکن جب برصغیر اور مڈل ایسٹ کے فرق کا اندازہ ہوا تو میں ’’کومے‘‘ کی کیفیت سے نکل آیا۔

مومن کی ایک پہچان اس کا اپنے عہد سے ہم آہنگ ہونا ہے تو اگر گھوڑے، اونٹ، خچر ، تلواریں، نیزے، تیر اور حربے جیسے ہتھیار تبدیل ہو گئے تو غور فرمائیے کہ اور کیا کیا کچھ تبدیل نہیں ہوا ہوگا؟ اور یاد رہے ہر ایجاد، ہر ٹیکنالوجی اک نئے کلچر، نئے رویے، نئے انسان، نئی رہتل کو جنم دیتی ہے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ حالات کی ماری بیچاری ملالہ اپریشن ایبل عمر میں کہاں سے کہاں پہنچی۔ اس کا متاثر ہونا قابلِ فہم ہے اور قابلِ درگزر بھی۔ وہ بچپن سے جن معاشروں کے بارے میں عریانی، فحاشی، بےراہروی کے قصے سنتی رہی ہوگی، وہاں جب اس نے نظم و ضبط، صفائی ستھرائی، مہذب رویے، قدم قدم پر تھینک یو، خالص خوراک، اصل دوائیں، جھوٹ فراڈ سے نفرت، پورا ناپ تول، تعمیر و ترقی، ایجاد و اختراع، قانون کا احترام، انصاف وغیرہ دیکھا ہوگا تو اس پر کچھ نہ کچھ تو گزری ہوگی۔

تب اگر اس نے محسوس کیا ہوگا کہ تمام تر عریانی، فحاشی، بےراہروی کے یہی اہلِ مغرب دنیا کی امامت کر رہے ہیں، ڈومینیٹ کر رہے ہیں، لیڈ کر رہے ہیں تو ذہنی طور پر لڑکھڑا گئی ہوگی جس کے نتیجہ میں شاید اس کی زبان بھی لڑکھڑا گئی ہو۔ اس نے شادی کو ’’عورت پاؤں کی جوتی کی جگہ‘‘ پارٹنر شپ سمجھ لیا ہو اور اسے ڈھنگ سے بیان نہ کر پائی ہو اور پھر کاغذ، پرنٹنگ وغیرہ کی سہولت سے پہلے اس معاہدہ پر ’’دستخط‘‘ کیسے ہوتے تھے۔

مختصراً یہ کہ معذرتیں یا وضاحتیں قبول کرتے ہوئے محبت اور شفقت سے بتانا سمجھانا شاید بہتر ہو، باقی بزرگوں کی مرضی، آخری بات یہ کہ جس لڑکی نے آج بھی دوپٹہ سنبھالا ہوا ہے، آسانی سے سنبھل جائے گی اگر کوئی ڈھنگ سے سمجھانے والا ہو۔