بہاریہ سورج مکھی کی کاشت

پاکستان کی موجودہ آبادی 20 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اس میں روزافزوں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔آبادی کی خوراکی ضروریات سے نبرد آزما ہونے کیلئے خوردنی تیل کی پیداوار میں تیزی سے اضافے کی ضرورت ہے۔

بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک خوردنی تیل کی قلت سے دوچار ہے اور یہ قلت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ آبادی میں اضافہ اور غذا میں روغنیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے پیداوار طلب کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

ہم اپنی ملکی ضروریات کا صرف 34 فیصد خوردنی تیل پیدا کر رہے ہیں اور باقی68 فیصد درآمد کرنا پڑتا ہے جس پر کثیر زرِمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔بہاریہ سورج مُکھی کا شمار اہم خوردنی تیلدار اجناس میں ہوتا ہے۔

اس فصل کا دورانیہ تقریباََ 100سے 110دن ہوتا ہے اور کم مدت کی فصل ہونے کی وجہ سے اسے بڑی فصلوں کے درمیانی عرصہ میں باآسانی کاشت کیا جاسکتا ہے۔بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کے لئے بہت موزوں ہے۔

سیم زدہ اور بہت ریتلی زمین اس کے لئے موزوں نہیں ہے۔ زمین کی تیاری کے لئے راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرا ئی تک چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جا سکیں۔کھیت کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔ سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے صحیح وقت پر اس کی کاشت انتہائی ضروری ہے۔تاخیرسے کاشت کرنے کی صورت میں نہ صرف اِس کی پیداوار میں کمی آ جاتی ہے بلکہ اِس سے تیل بھی کم حاصل ہوتا ہے۔

سورج مکھی کی فصل سال میں دو مرتبہ کاشت کی جا سکتی ہے۔ ایک موسم بہار میں اور دوسری موسم خزاں میں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بہاریہ سورج مُکھی کا وقت کاشت کچھ یوں ہے ، بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی، بہاولنگریکم جنوری تا 31 جنوری،مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں، راجن پور اور بھکر10جنوری تا 10فروری،میانوالی، سرگودھا،خوشاب، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ ،فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، منڈی بہاؤ الدین،قصور ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور نارووال، اٹک، راولپنڈی، گجرات اور چکوال 25جنوری تاآخرفروری ہے ۔

کاشتکاروں کو چاہیے کہ بیماریوں پر قابو پانے کے لئے بیج کو بوائی سے پہلے محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب پھپھوند کش زہر لگانے کے بعد بوائی کی جائے۔

سورج مکھی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے فصل کا قطاروں میں کاشت کرنا بے حد ضروری ہے۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو تا اڑھائی فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رکھیں۔

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بیج تروتر میں کاشت کیا جائے اور بیج کی گہرائی زیادہ سے زیادہ دو انچ ہو۔ اگر کھیلیوں پر کاشت کرنا ہو تو کھیلیاں آلو کاشت کرنے والے رجر سے شرقاً غرباً نکالیں۔ کھیلیوں میں پہلے پانی لگائیں اور جہاں تک وتر پہنچے اس سے تھوڑا اوپر خشک مٹی میں جنوب کی طرف بیج لگائیں۔سورج مکھی کی کاشت (1) پلانٹر۔

(2) ٹریکٹر ڈرل یا سنگل رو کاٹن ڈرل۔ (3) پور یا کیرا (4) ڈِبلنگ(چوپا)کے طریقے سے کی جاسکتی ہے ۔ تاہم ان طریقوں میں ڈِبلنگ(چوپا) نہایت کارآمد ہے۔ اس طریقہ کاشت میں پہلے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر وٹیں بنالی جاتی ہیں پھر پانی دے کر ہر 8 تا 9 انچ کے فاصلے پر سوراخ کرکے ایک ایک بیج ڈالا جاتا ہے۔

موجودہ سائنسی دور میں زمین کی بنیادی زرخیزی، زمین کا کیمیائی تجزیہ/کلراٹھاپن، اسکی قسم یا نوعیت، دستیاب ٹیوب ویل یا نہری پانی کی مقدار اورحالت، مختلف فصلوں کی کثرت اور فصلوں کی ترتیب جیسے حالات کے مطابق کھاد ڈالنا بہت ضروری ہے۔

ہماری زمینوں میں اجزائے صغیرہ (مثلاً زنک، بوران وغیرہ)کی کمی بھی ہو رہی ہے۔ اس کے لئے ان کا استعمال تجزیہ اراضی کی بنیاد پر کریں۔زنک اور بوران کی کمی کی صورت میں زنک سلفیٹ33 فیصد بحساب 6کلو گرام اور بوریکس 11.0فیصد بحساب 3کلو گرام فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔

آبپاشی کا دارومدار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔ اگر موسم گرم اور خشک ہو تو فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر موسم سرد اور مرطوب ہو تو کم آبپاشی کی ضرورت ہوگی۔ اگاؤ کے بعد جب فصل چار پتے نکال لے تو کمزور اور فالتو پودے اس طرح نکال دیں کہ پودوں کا باہمی فاصلہ آبپاش علاقوں میں تقریباً 9 انچ اور بارانی علاقوں میں 12 انچ رہ جائے۔ڈرل سے کاشتہ فصل کو پہلا پانی لگانے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ گوڈی ضرور کریں۔سورج مکھی کی فصل کو پہلے آٹھ ہفتے جڑی بوٹیوں سے بچانا ضروری ہوتا ہے ۔

اس کے بعدفصل کاقدکاٹھ اتناہوجاتاہے کہ وہ خودبخودہی جڑی بوٹیوں پرحاوی ہوجاتی ہے۔سورج مکھی کی فصل پر سبز تیلہ، سفید مکھی ، سست تیلہ ،چو ر کیڑا، لشکری سنڈی ، امریکن سنڈی اورملی بگ کا حملہ ہوتا ہے ۔مشاہدہ میںیہ بات آئی ہے کہ سورج مکھی کی فصل پر بہت سے ضرر رساں کیڑوں پردوست/شکاری کیڑے موجود ہوتے ہیں جن میں کیڑا خور لیڈی برڈ بیٹل (Lady Bird Beetle)، کرائی سوپرلا (Chrysoperla) ، پائیریٹ بگ (Pirate Bug) ، سرفڈ فلائی( (Syrphid Fly ، مکڑے (Spider) رووبیٹل (Rove Beetle) ،ہوورفلائی (Hover Fly) ، ٹرائی کو گراما (Trichogramma) اسیسین بگ (Assasin Bug) ، بریکون ہیپٹر (Braconhebotor) وغیرہ بھی موجود ہوتے ہیں۔ امریکن سنڈی کے نر پروانوں کو جنسی پھندے لگا کر تلف کریں۔ اس لئے ضرر رساں کیڑوں کے خلاف سپرے کا فیصلہ کھیت میں موجود دوست کیڑوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور پیسٹ سکاؤٹنگ کے بعد کریں۔ مزید برآں زرپاشی (Pollination) کے وقت زہروں کے سپرے سے اجتناب کریں۔

اگر ضرر رساں کیڑوں کے خلاف سپرے کرنا ضروری ہوجائے تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کرکے موزوں زہر کا انتخاب کریں ۔ سورج مکھی کی فصل پر حملہ آور ہونے والی بیماریوں میں تنے کی سرانڈ ، پھول کی سڑن، پتوں کا مرجھاؤ ، بیج کو اُلی لگنا ، روئیں دار پھپھوندی اور سفوفی پھپھوندی شامل ہیں۔

بیماریوں کے کیمیائی تدارک کے لئے پھپھوندکش زہرکا انتخاب اور استعمال محکمہ زراعت (توسیع) اور پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈ کے عملہ سے مشورہ کرکے کریں۔
(ڈیلی پاکستان)