بی بی ہم شرمندہ ہیں ؟

محترمہ بینظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے 10سال ہو چکے ان کو کب قتل کیا گیا ،کیوں کیا گیا ،کس نے کیا اور قاتل ابھی تک کیوں نہیں پکڑے جا سکے ان تمام سوالوں کا ذکر بی بی شہید کی برسی کے وقت کیا جاتا ہے اور پھر خاموشی ہو جاتی ہے سال بھر کیلئے پی پی پی کی قیادت سمجھتی ہے کہ ہم نے بی بی شہید کے خون کا بدلہ لے لیا ہے مگر بینظیر کے ذکر پر میں نے اکثر دیکھا ہے کہ پی پی پی کے نظریاتی جیالے افسردہ ہو جاتے ہیں ۔بینظیر بھٹو کے بچے پریشان ہو جاتے ہیں چند نظریاتی ساتھی یا پھر ناہید خان جو محترمہ کی دیرینہ ساتھی رہی ہیں ان کو میں نے جب بھی دیکھا ہے بے نظیر بھٹو کے غم میں نڈھال دیکھا ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کی 10ویں برسی کے روز ایک بار پھر ملک بھر سے جیالوں نے لاڑکانہ کا رخ کیا بینظیر بھٹو اور زیڈ اے بھٹو کی قبروں پر دعا مانگی جیالوں کیلئے زیڈ اے بھٹو کا غم ہی بہت تھا مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت نے جیالوں کو عملاً لاوارث کر دیا ہے اب زیڈ اے بھٹو اور بینظیر بھٹو کی برسی کے دو دن سالانہ ایسے ایونٹ کی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔5سال تک آصف علی زرداری نے انہی شہادتوں کی بنیاد پر گزار دیئے اب آصف علی زرداری 2018ء کا انتخاب بلاول کے ذریعے جیتنے کے خواب دیکھ رہا ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ آصف علی زرداری نے بے نظیر کی شہادت کواور انکی اپنے نام مبینہ وصیت سے لے کرزیڈ اے بھٹو کے فلسفے تک کو اپنی سیاست اور اقتدار کیلئے پوری طرح کیش کروایا مگر ان کی سیاست میں زیڈ اے بھٹو اور بینظیر بھٹو کے سیاسی فلسفے کی جھلک بھی نظر نہیں آتی ۔زیڈ اے بھٹو کے داماد کو پیپلز پارٹی مل تو گئی مگر وہ اپنی پارٹی اور جیالوں کی روح کو نہیں سمجھ سکے آج وہ جیالا جو مزاحمت کی سیاست پر یقین رکھتا تھا زیڈ اے بھٹو اور بی بی شہید کے فلسفے کا پرچار کرتا تھا اپنے آپ کو لاوارث سمجھ رہا ہے یہ جیالا آصف علی زرداری کی مفاہمت کی سیاست کا حصہ نہیں ہے مگر زیڈ اے بھٹو اور بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر بلاول بھٹو کی تقریر سننے کے لئے یہ جیالا ضرور آ جاتا ہے۔پیپلز پارٹی کا جیالا اس بات کو بھی ہضم نہیں کر سکا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کی بنیاد پر حکمران اور پارٹی سربراہ بننے والے ان کے شوہر آصف علی زرداری نے آج تک بی بی شہید کے قاتلوں کے حوالے سے واضح موقف نہیں اپنایا آصف علی زرداری کی 5سال تک حکومت رہی وہ پاکستان کے تمام تفتیشی اداروں پر عدم اعتماد کر کے ریاست پاکستان کے کروڑوں روپے خرچ کر کے اقوام متحدہ تک پہنچ گئے مگر اس کے باوجود آج تک بینظیر بھٹو کے سیاسی اور نظریاتی وارثوں سمیت پوری قوم کو قاتلوں کے بارے میں اور بی بی شہید کے قتل کی سازش کے بارے میں آگاہ نہیں کر سکے ۔ہر برسی پر مبہم سی بات کر کے و قت گزار دیتے ہیں اور اب بلاول بھٹو کے تقریر نویسوں کو بھی یہی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ان کو بھی ایسی ہی مبہم سی گفتگو لکھ کر دو تا کہ عام آدمی اور جیالے کی سمجھ میں نہ آ سکے کہ آخر بینظیر کی شہادت کے پیچھے کیا سازش تھی ۔ذوالفقار مرزا سے لیکر ناہید خان تک نے بی بی شہید کی شہادت کے حوالے سے اس قدر سنگین الزامات لگائے جن کا جواب پوری قوم اور نظریاتی جیالے جاننا چاہتے ہیں مگر ان کو جواب نہیں مل سکا اسی طرح خالد شہنشاہ سے لے کرعزیر بلوچ تک کی کہانیوں کے اندر کی کہانیاں ان کو بھی آج تک کسی تحقیق یا تفتیش میں موضوع بحث نہیں بنایا گیا آخر کیوں؟ اور بینظیر شہید کی 10ویں برسی کے موقع پر سابق صدر پرویز مشرف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بی بی شہید کے قاتل وہی ہیں جو مرتضیٰ بھٹو کے قاتل ہیں جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے قوم اور پیپلز پارٹی کا جیالا بینظیر شہید کے قتل کے بارے میں مزید مشکوک ہوتا جا رہا ہے بینظیر بھٹو شہید کے کئی جیالے اور ان کے نام لیوا اقتدار کے مزے لے کر ارب پتی ہو گئے مگر بے نظیر آج بھی انصاف مانگ رہی ہیں۔آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کی سیاست کیلئے زیڈ اے بھٹو اور بینظیر بھٹو کی شہادت کو استعمال کرتے ہیں مگر آج تک بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سزا دلوانے کیلئے کوئی تحریک نہیں چلائی پیپلز پارٹی جب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے طاہر القادری اور عمران خان کے ساتھ مل کر تحریک چلانے کا اعلان کرتی ہے تو لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے اور سزا دلوانے کیلئے تحریک کیوں نہیں چلاتی مورخ جب بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے قلم اٹھائے گا تو جہاں پر بینظیر کے قاتل اس کیلئے قابل نفرت ہونگے وہاں پر5سال تک وفاق میں اقتدرا میں رہنے والی پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری ،یوسف رضا گیلانی اور دیگر جیالے بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے اگر یہ تمام لوگ جنہوں نے بی بی شہید کے خون پر حکومت کی دنیا میں بچ بھی گئے تو آخرت میں بینظیر بھٹو ان تمام حضرات سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ میں نے تو اپنا خون دیکر آپ کو نئی زندگی اور اقتدار دیا مگر آپ میرے قاتلوں کو بھی تلاش نہ کر سکے 10ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بی بی شہید کا قاتل پرویز مشرف ہے،بلاول بھٹو کی اگر یہ منطق مان بھی لی جائے تو ان سے سیدھا سادا سوال یہ بنتا ہے کہ آپ کو کب پتہ چلا کہ بی بی شہید کا قاتل پرویز مشرف ہے اگر یہ اطلاع آپ کو بینظیر بھٹو شہید کی اس ای میل کے ذریعے ملی ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں مختلف لوگوں کو بھجوائی تھی تو یہ کسی کیلئے بریکنگ نیوز نہیں ہے اس کے بارے تو آپ کے والد محترم بھی جانتے تھے اگر یہ بات بھی درست تھی تو پھر آصف علی زرداری نے اس قاتل کے ساتھ سمجھوتہ کیوں کیا اس قاتل کو پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک کیوں بھیجا گیا پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل بلاول بھٹو کے انکلز نے پرویز مشرف کو گرفتار کیوں نہ کیا اور بلاول بھٹو کا پہلا سوال تو آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کے ساتھیوں سے بنتا ہے کہ آپ اتنی دیر سے خاموش کیوں ہیں اور پھر بلاول کو پارٹی کی سربراہی سنبھالنے کے ساتھ ہی پہلا اعلان یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ اپنی والدہ کے قاتلوں کو کٹہرے میں لائیں گے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے تحریک چلائیں گے اور اگر ان کو ابھی تازہ تازہ اطلاع ملی ہے کہ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے حوالے سے ان کے گھر کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس بیان کا جواب دینا ضروری ہے تو پھر الگ بات ہے بینظیر شہید کے قتل کے حوالے سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ محترمہ کی شہادت کے وقت سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی آنسو بہائے تھے بینظیر شہید نے میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت بھی کیا مگر میاں نواز شریف بھی 4سال سے زائد عرصہ تک اقتدار میں رہے انہوں نے بھی اپنی بہن کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا آج ہم ایسے واقعات کو محض سیاست کیلئے کیوں استعمال کرتے ہیں پیپلز پارٹی اگر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سامنے لانے کی کوشش کرتی تو کیا نہیں لا سکتی تھی؟ یقیناًلا سکتی تھی آج کیا وجہ ہے پیپلز پارٹی جس کو قاتل سمجھتی ہے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتی ہے جن کو بینظیر اپنا قاتل کہتی ہے ان کو شریک اقتدار کر لیا جاتا ہے اگر سیاست کے آئن سٹائن آصف علی زرداری بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو سامنے نہیں لا سکتے تو کیا بلاول بھٹو اپنی والدہ کے قاتلوں کو سامنے لا کر سزا دلوا سکیں گے یا پھر برسی کی تقریب میں بی بی کے جیالے صرف یہ نعرے لگا کر واپس چلے جایا کریں گے کہ بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں ۔
ذوالفقاراحمد راحت