لاہور پولیس زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قسط نمبر 1)

پیر کے روز ایک نجی چینل پر خبر بریک ہوئی جس میں خوفناک فوٹیج چل رہی تھی ویڈیو میں تین مسلح ڈاکو دن دیہاڑے سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں افراد کی موجودگی میں شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اس لوٹ مار کے مناظر کو کسی شہری نے کمال مہارت سے محفوظ کر لیا میں نے لوٹ مار کے مناظر دیکھے تو سمجھا کہ یہ کراچی کی کسی شاہراہ کی خبر ہو گی جہاں پر ٹریفک جام کے دوران لوٹ مار کے واقعات عام ہیں لیکن آج کل کراچی میں رینجرز کے مسلسل آپریشن کی وجہ سے حالات قدرے بہتر ہیں اب آتے ہیں گزشتہ روز کی بریکنگ نیوز پر تو میں نے ایک بار پھر واپس مذکورہ چینل پر جا کر غور سے دیکھا تو مجھے سڑک اور اردگرد بلڈنگز کے مناظر دیکھے بھالے محسوس ہوئے۔ آواز چونکہ بند تھی میں نے آواز کھولی تو پتہ چلا کہ یہ صوبائی دارالحکومت لاہور کا دل گارڈن ٹاؤن ہے جس کو لاہور کا پوش علاقہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ علاقہ ایوان وزیراعلیٰ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے متعلقہ تھانے اور ڈی ایس پی کے دفتر سے صرف چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹی وی رپورٹ اور سڑک کے مناظر دیکھ کر میرے تیور بدلنے لگے میرے چہرے کے بدلتے رنگ کو دیکھ کر میرے سامنے بیٹھے میرے دوست جو خود بھی ایک سینئر جرنلسٹ ہیں نے اچانک اپ سیٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد مجھے ان کو وہ واقعہ بتانا پڑا جو بالکل اسی جگہ میرے ساتھ 6 اگست 2016ء کو پیش آیا میں سڑک پر گاڑی روک کر موبائل پر بات کر رہا تھا سینکڑوں گاڑیاں گزر رہی تھیں ۔ 14 اگست جشن آزادی کا رنگ غالب تھا ہر طرف چہل پہل تھی کہ اچانک دو لڑکے موٹر سائیکل پر آئے اور چلتی ٹریفک میں انہوں نے مجھ پر پستول تان لئے ۔ پولیس اور ڈولفن کی گاڑیاں بھی دور سے نظر آ رہی تھیں جن کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ یہ پولیس میری نہیں شاید ان ڈاکوؤں کی حفاظت پر مامور ہے۔ خیر دو تین منٹ سے بھی کم وقت میں ڈاکو گن پوائنٹ پر مجھ سے میرا پرس اور موبائل وغیرہ چھین کر جا چکے تھے۔ جاتے ہوئے میں نے ان کی موٹر سائیکل کا نمبر نوٹ کرنے کی کوشش کی تو نمبر پلیٹ دیکھ کر مجھے مزید دکھ ہوا کیونکہ نمبر پلیٹ کی جگہ پر پاکستان کے جھنڈے والا سٹیکر لگا ہوا تھا۔ کچھ دیر گاڑی میں بیٹھا سوچتا رہا کہ چند دن بعدجشن آزادی کا دن ہے کیا ہم نے ہندوؤں اور انگریزوں سے اس بدمعاشی اور لوٹ مار کیلئے آزادی حاصل کی تھی ۔ خیر اس کے بعد میں ساتھ ہی واقع پٹرول پمپ پر پہنچا جہاں پر موجود دکان میں گیا تو کاؤنٹر پر جو شخص تھا اس کی شکل میرے دوست عرفان کھوکھر سے ملتی جلتی تھی اس سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں میں ان کا بھائی ہوں میں نے ان سے موبائل لیکر 15 پر کال کی یہ تقریباً 11:45 کا وقت تھا اس کے بعد مجھے سی سی پی او سے لیکر تقریباً تمام سینئر اور جونیئر پولیس افسران کے فون آنا شروع ہو گئے اور اپنے ساتھ ہونے والی واردات کی کہانی جب مجھے 50 سے زائد بار بتانی پڑی تو مجھے ایسا لگا کہ میں نے کال کر کے بہت بڑا جرم کیا ہے۔ طرح طرح کی باتیں ، سوالات سن سن کر میں تنگ آ گیا اس جان لیوا مرحلہ کو ایف آئی آر تک پہنچتے تقریباً مزید دو گھنٹے گزر گئے وقوعہ کی رات مجھے لاہور پولیس کے تمام افسران نے یقین دلایا کہ کل تک ڈاکو حوالات میں اور آپ کا سامان آپ کے پاس ہو گا اگلا دن آیا تو میں نے رات والے افسران کو ایک ایک کر کے ڈھونڈنا شروع کیا مگر یہ افسر مجھ سے بڑی واردات کی کہانی میں مصروف تھے۔ حالانکہ رات کو متعلقہ ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن’خورشید اور ڈی ایس پی گارڈن ٹاؤن محمد اصغر نے تو میرے گھر کا ایڈریس اور گھر کا فون نمبر اپنی ذاتی ڈائری پر نوٹ فرماتے ہوئے کہا کہ کل کے دن خیر ہو جائیگی اس کے بعد مجھے ایک روز ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن میڈم عمارہ خان کا فون آیا جس نے بہت پڑھے لکھے انداز میں بات کرتے ہوئے مجھے خوشخبری دی کہ کچھ کار چور ہم نے پکڑ لئے ہیں امید ہے کہ وہ آپ کی ڈکیتی بھی مان جائیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ میری واردات کا کار چوروں سے کیا تعلق ہے جس پر انہوں نے فرمایا کہ آپ کو نہیں پتہ ان مجرموں کے آپس میں رابطے ہوتے ہیں خیر میں خوشخبری کا انتظار کرتا رہا ایک ہفتہ گزرنے کے بعد میں نے ڈی آئی جی آپریشن لاہور حیدر اشرف ، سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس اور ڈی آئی انویسٹی گیشن کو ایس ایم ایس کیا اور کئی کالز کیں کچھ دیر کے بعد مجھے سی سی پی او کی کال آ گئی انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کی تفتیش کیلئے کسی سینئر آفیسر کو ہدایت جاری کر دی ہے آپ فکر نہ کریں۔ اسی طرح ایک روز ایس پی ماڈل ٹاؤن اسماعیل خٹک کی کال آ گئی کہ ہم نے کچھ لوگa پکڑے ہیں جن میں آپ کے ملزمان بھی شامل ہیں آپ آ کر صرف شناخت کر لیں میں خوشی خوشی ایس پی ماڈل ٹاؤن کے دفتر پہنچا تو موصوف انتظار میں تھے۔ انہوں نے اردلی کو حکم دیا کہ ایس ایچ او کو کہو کہ ملزمان کو لیکر آئے چند منٹوں کے بعد ایک سب انسپکٹر اور ایک اے ایس آئی دو ملزمان کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے ملزمان سے سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو انکشاف ہوا کہ ملزمان کا میری واردات سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میرے ساتھ واردات رات 11 کے قریب گارڈن ٹاؤن برلب سڑک ہوئی جبکہ ملزمان نے شام 6 بجے کسی اور طریقے سے بالکل کسی اور جگہ پر واردات کی تھی وقت اور طریقہ واردات سمیت کسی بھی چیز کی مشابہت نہ تھی لیکن ملزمان کے پیچھے کھڑے اے ایس آئی میری واردات کی کہانی سن کر ملزمان کو آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا کہ تم ہی تھے اور کون تھا اور ساتھ ساتھ ان کو دھمکا بھی رہا تھا میں نے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے آج اتنا افسوس ہوا ہے کہ آپ سمیت کسی سینئر آفیسر نے میری ایف آئی آر پڑھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی اگر تفتیش کو مانیٹر کرنے والے کو خود وقوعہ کے بارے پورا پتہ نہیں ہو گا تو وہ دوران تفتیش کیا سوال کریگا ایس پی ماڈل ٹاؤن چونکہ شریف اور اچھا آدمی ہے اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میں ایف آئی آر بھی پڑھ لیتا ہوں اور اب آپ کو خوشخبری ضرور دیں گے۔ اس کے بعد کئی ماہ ہو چکے ہیں کبھی کسی آفیسر یا تفتیشی نے رابطہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اس سے بڑا لطیفہ کیا ہو سکتا ہے کہ ڈکیتی کے وقوعہ کی فائل مکمل کرنے کیلئے آج تک کسی تفتیشی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا حالانکہ پولیس تفتیش کے اس عمل کو مکمل کئے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ میں ایس پی ماڈل ٹاؤن اسماعیل خٹک اور ایس پی ماڈل ٹاؤن عمارہ خان کو متعدد بار شکایت کر چکا ہوں کہ آپ کے تفتیشی نے اتنے سنگین مقدمہ میں رابطہ تک نہیں کیا ایک بار تو ایس پی عمارہ خان نے مجھے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر آپ صحافی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم باقی کام چھوڑ کر آپ کی واردات ڈھونڈنے نکل پڑیں اس کے بعد محترمہ آخری خبر تک یا پھر میری معلومات کے مطابق بیرونی دورہ پر تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میرے دوست شاہد قادر جو بغیر تنخواہ کے 24 گھنٹے اہل صحافت میں پولیس کی پی آر کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں وہ گزشتہ روز بھی میرے ساتھ ایک گھنٹہ سے زائد ٹائم تک بحث کرتے رہے کہ لاہور پولیس میں صرف ایک دو افسران ٹھیک نہیں ۔ سی سی پی او لاہور ایک بہترین کپتان ہیں ان کو اگر ٹیم ٹھیک مل جائے تو وہ بہترین رزلٹ دے سکتے ہیں۔ میں شاہد قادر کی بات سے سی سی پی او کی حد تک تو اتفاق کرتا ہوں کہ وہ تقریباً اٹھارہ گھنٹے تک کام کرتے ہیں مگر میں یہ ماننے کیلئے بالکل تیار نہیں ہوں کہ لاہور پولیس وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق تھانہ کلچر کی تبدیلی کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔میں نے اپنی داستان غم کا صرف چوتھا حصہ بیان کیا ہے آئندہ قسط میں کوشش کروں گا کہ اس کو مکمل کر دوں جس کو پڑھ کر آپ سب کو اندازہ ہو گا کہ اگر سینئر صحافیوں کے ساتھ لاہور پولیس ایسا سلوک کر رہی ہے تو پھر عام آدمی کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ (جاری ہے)