کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے ملاقات کا منصوبہ کامیاب رہا

راقم یہ مانتا ہے کہ کلبھوشن اس لائق بالکل نہیں تھا جتنا اس پر رحم فرمایا گیا بلکہ اسے تو فی الفور پھانسی کے تختے پر چڑھا دینا چاہئے تھا جس نے پتا نہیں کتنے بچوں کو یتیم کیا ،انگنت ماؤں کے لخت جگر مارڈالے لیکن حالات و واقعات مجبور کرتے ہیں کہ اعلٰی دماغوں کے اس فیصلے پر انہیں داد دی جائے۔

آپ کو کیا لگتا ہے جن لوگوں نے چار سال تک کلبھوشن کو بے وقوف بنائے رکھا، اس کے ذریعے بھارت میں اپنے سینکڑوں جاسوس بھجوائے، کیا وہ اتنے سادہ اور بے وقوف ہیں کہ بغیر کسی وجہ کے کلبھوشن کو اس کی ماں اور بیوی سے ملوا دیں؟ کیا یہ بھی نہیں دیکھ پا رہے کہ اس ملاقات کے بعد بھارت کو کتنی زیادہ تکلیف ہوئی ہے؟ مثلاً اوّل، بھارت نے پراپیگنڈہ کیا کہ ہمارے چار فوجی مار دیے ہیں پاکستان نے۔ دوئم، بھارت نے کہا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی پار کے پاکستان میں کارروائی کی ہے۔ سوئم ، بھارت نیکہاکہ مار مار کے پاکستانیوں نے کلبھوشن کا سر پھاڑ دیا ہے۔ یہ سارا شور جو بھارت اب مچا رہا ہے راقم کی ادنٰی حس کے حساب سے اس بات کی گواہی ہے کہ بھارت نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان کلبھوشن یادیو سے اس کی بیوی اور ماں کی ملاقات کرواتا۔ بھارت عالمی سطح پر مظلوم بیوہ کی طرح شور مچانے کیلیے بے تاب تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا کیونکہ پاکستان کے محافظ ہندو بنئے سے بہت آگے کی سوچ رکھتے ہیں.
کلبھوشن کی ماں اور بیوی کو بھارتی میڈیا تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے ۔یہ بڑی مزے کی صورتحال ہے ۔بھارت کی گندی ذہنیت آشکار ہورہی ہے ۔بھارتی عوام جاننے کو بے تاب ہیں کہ کلبھوشن کا دکھڑا اس کی ماں اور بیوی کی زبانی سنیں لیکن وہ میڈیا سے دور رکھے جا رہے ہیں۔ وجہ یہ کہ کلبھوشن نے ماں کو کہہ دیا ہے کہ میں بھارتی جاسوس ہوں ۔بھارت کو کہو مجھے اپنا جاسوس تسلیم کر لے اور پاکستان سے رہائی کی درخواست کرے ، اب کلبھوشن کی ماں اگر یہ بات کرتی ہے تو سوچیں بھارت میں کیا ہو گا اور عالمی سطح پر کیا ہو گا۔
بین الاقوامی طور پر تو ایک بھونچال بھارت کے خلاف آئے گا ہی لیکن بھارت کے اندر بھی ایک طوفان آ جائے گا۔بھارتی عوام مودی حکومت کو مجبور کریں گے کہ پاکستان سے اپنا جاسوس چھڑاؤ۔ اب مودی حکومت کلبھوشن کو اپنا جاسوس تسلیم کرے تو بھی پھنستی ہے نا کرے تو کلبھوشن کی اماں یا بیوی کسی دن بھارتی حکومت پہ پھٹ پڑے گی، یہ ہڈی مودی کے گلے میں اٹک گئی ہے جو نگلی جاری ہے نہ تھوکی جاری ہے ۔اس ایک ملاقات نے مودی کو باندھ کے رکھ دیا ہے۔
(ڈیلی پاکستان)