پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا گیا ہے!

امریکی صدر، نائب صدر، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور افغانستان میں مغربی افواج کے امریکی جنرل، سب کے سب اس مسئلے پر ایک ہی صفحے پر ہیں کہ پاکستان اپنے ہاں دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے جبکہ سب پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ الزام غلط ہے اور نیا بھی نہیں ہے۔ ایک عرصے سے امریکہ ’’ڈومور‘‘ کی ایسی رٹ لگا رہا ہے جو اب باقاعدہ ایک نئی اصطلاح بن چکی ہے۔ اور اسی اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے فوجی حکام بھی ایک مدت سے یہ کہتے آئے ہیں کہ اب ’’ڈومور‘‘ کی باری امریکہ کی ہے۔ اس مسئلے پر پاکستان کے آرمی چیف تک علی الاعلان اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر چکے ہیں اور نہ صرف اردو میں بلکہ اس زبان میں بھی جسے امریکی سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امریکی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ ان کا نائب صدر پاکستان کے ہمسائے میں آکر اور اپنی پشت پر درجنوں امریکی جوانوں اور افسروں کو بٹھا کر یہ کہہ رہا ہے کہ : ’’صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ دیا ہے‘‘۔۔۔

ٹرمپ کا چونکہ ماضی غیر عسکری اور غیر سیاسی ہے اس لئے ان کو معلوم نہیں کہ فوجی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کن اصطلاحات اور الفاظ سے اجتناب کرنا پڑتا ہے اور کن کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ہر اس ملک کو دھمکی پر دھمکی دیتے چلے آ رہے ہیں جو ان کی بات نہیں مانتا، یا ان کی لائن ٹو (Tow) نہیں کرتا۔ شمالی کوریا کو، میرے خیال میں، نصف درجن سے زیادہ بار صفحہ ء ہستی سے نیست و نابود کرنے کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔ اس کے صدر کم جانگ کی ذاتی تحقیر کر چکے ہیں اور نجانے ان کو اور کیا کیا کہہ چکے ہیں لیکن وہ اللہ کا ولی ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ یہی چلن امریکیوں نے پاکستان کے بارے میں بھی اپنا رکھا ہے۔ مائک پنس کی تازہ دھمکی اسی قبیل کی بے حد بے شرمانہ دھمکی ہے جس کا جواب پاکستان کو دینا پڑا ہے۔ پاکستان آج تک حسّاس معاملات پر بیان دیتے ہوئے بین الاقوامی لسانی ضابطوں اور اسلوبِ بیان کی پیروی کرتا آیا ہے لیکن جمعرات (28دسمبر 2010ء) کو میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس واشگاف انداز میں امریکی دھمکی کا ابطال کیا ہے، وہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں شائد پہلی بار ہوا ہے۔ جنرل غفور نے صاف صاف الفاظ میں کہا کہ : ’’پاکستان کی مسلح افواج اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔ لیکن جہاں تک ہمارے قومی وقار کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہم کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے کوئی تنازعہ (جنگ) مول لینا نہیں چاہتے لیکن اپنے ملک کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے‘‘۔

میں نے اپنے کالم میں جو گزشتہ ہفتے (بدھ) شائع ہوا تھا اس میں یہ لکھا تھا کہ پاکستان کو براہِ راست امریکہ سے الجھنا نہیں چاہیے۔ ہم نسبتاً عسکری اعتبار سے ایک کمزور قوم ہیں لیکن عسکری کمزوری، عزم و حوصلے کی کمزوری نہیں ہوتی اور جنگیں عزم و حوصلہ ہی کے بل پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستان کے موجودہ داخلی حالات یہ اجازت بھی نہیں دیتے کہ ہم امریکہ اور ناٹو ممالک کی افواج سے دوبدو ہوں۔ لیکن اگر بالکل ہی مجبور کر دیا جائے تو پھر چیتے کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بلی بھی اپنے دفاع سے عاجز آ جاتی ہے تو ایک جھپٹ مار کر چیتے کی آنکھیں نکال دیتی ہے:
نہ بینی کہ چوں گربہ آید بہ جنگ
برآرد ز چنگال چشمِ پلنگ
پاکستانی بلی کے چنگل میں جو جوہری ہتھیار پکڑے ہوئے ہیں وہ اگرچہ بلی کو بھی ختم کر دیں گے لیکن چیتے کو بھی ضرور اندھا کر دیں گے۔۔۔ امریکہ سے زیادہ اور کس کو اس حقیقت کا حساس ہوگا؟
جنرل غفور نے مائک پنس کی دھمکی کا جو جواب دیا ہے وہ پوری پاک فوج اور پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جنرل آصف کے اس جوابی بیان نے امریکی انتظامیہ کے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہوگی۔ اکثر قارئین کو چونکہ ملٹری ورکنگ کا بالعموم اور امریکی فوجی ورکنگ کا بالخصوص کم اندازہ ہے اس لئے درج ذیل سطور میں بتانا چاہتا ہوں کہ اب امریکی جرنیل کیا سوچ رہے ہوں گے اور ان کے جنگی پلان کس حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کی فکر میں ہوں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ دن جو گزر رہے ہیں ،پاکستانی تاریخ کے وہ ایام ہیں جو کسی بھی قوم کی تعمیر و تخریب یعنی میک (Make) اور بریک (Break) کے لئے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔۔۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ امریکہ نے گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں عراق کے خلاف جو ملٹری آپریشن (ڈیزرٹ سٹارم) کیا تھا اس کی تیاری ساری دنیا کی نگاہوں کے سامنے تھی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے (جن میں پاکستان بھی شامل تھا) سعودی عرب میں عراق کی جنوبی سرحد پر اپنی گراؤنڈ اور ائر فورسز کو لاکر اکٹھا کر دیا تھا۔ اس کی ایک نیول ٹاسک فورس، بحرالکاہل سے موو(Move) کرکے پہلے بحرہند میں آئی تھی اور پھر وہاں سے عراق پر بحری اور فضائی طیاروں اور میزائلوں کی یکبارگی بارش کردی گئی تھی۔ اس کا کوئی بھی جواب عراق کے پاس نہ تھا اور کسی دوسری عالمی قوت نے بھی عراق کی حمائت میں کچھ نہیں کیا تھا، اس لئے گویا یہ ایک یک طرفہ جنگ تھی۔۔۔ کہاں اکیلا عراق اور کہاں امریکہ۔۔۔ لیکن تب بھی امریکی صدر بش سینئر نے بغداد پر قبضہ نہیں کیا تھا اور صرف اس کے ری پبلیکن گارڈ ڈویژن (آرمر) برباد کرنے اور انفنٹری ڈویژنوں کو شکست دینے پر ہی اکتفا کیا تھا۔

پھر 2003ء میں بش سینئر کا بیٹا بش جونیئر ملک کا صدر بن گیا اور جو کام باپ سے نہ ہوسکا وہ بیٹے نے آکر مکمل کردیا۔ یہ سب کچھ کل کی بات ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔ صدام کی پھانسی، معمر قذافی کی لاش کی بے توقیری، ان کے ممالک (عراق اور لیبیا) کی آبادیوں کا قتلِ عام اور کئی سو برس کی دجلہ و فرات کی شاندار اسلامی تہذیب و ترقی کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا گیا۔۔۔ اس کے بعد شام کا رخ کیا گیا۔ لیکن اتنے میں روس کو شائد کچھ غیرت آگئی اور اس نے بیچ میں کود کر معاملے کو وہاں تک پہنچا دیا جہاں آج پہنچا ہوا ہے اور ایک تعطل کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔۔۔لیکن اب پاکستان کے باب میں امریکہ اور ناٹو کو سوچنا پڑ رہا ہے کہ ایک جوہری اہلیت کی حامل اور ویسٹرن ٹرینڈ ملٹری کا کیا کیا جائے۔۔۔ امریکہ ایک عرصے سے پاکستان کے خلاف ایکشن لینے کا سوچ رہا ہے۔ بش جونیئر اور اوباما بھی یہی سوچ سوچ کر رخصت ہوگئے اور اب ٹرمپ کے سوچنے کی باری آگئی ہے۔ آج کے وارسزیومیں ٹرمپ کے تیور اگر بدلتے نظر آئے تو اس کی افواج کی نقل و حرکت پوشیدہ نہیں رہ سکے گی۔ پاکستان آرمی کا ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، آج کل بہت مصروف ہوگا اور ایک لمحے کے لئے بھی کسی کو آرام کی نیند سونے کا لمحہ میسر نہیں ہوگا۔ جوائنٹ ہیڈ کوارٹرز میں ائر، نیول اور گراؤنڈ فورسز کے مخلوط اور مشترکہ آپریشنوں کے پلانوں کو روبہ عمل لانے پر غور کیا جارہا ہوگا۔ یہ پلان پہلے سے تیار ہوتے ہیں جو مختلف صورتوں کے پیشِ نظر لانچ کئے جانے ہوتے ہیں۔ ان میں آپریشنل اور لاجسٹک تفصیلات کی ایک ایک شق طے کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی علاقائی انٹلی جنس کے سارے انٹیناز الرٹ ہوتے ہیں جو دشمن کی ائر، گراؤنڈ اور نیول فورسز کی Movementsکی لمحہ لمحہ کی خبریں دے رہے ہوتے ہیں۔

چین اور روس کے ساتھ بھی پاکستان اپنی سٹرٹیجک پلاننگ کی حکمت عملی Dovetail کر چکا ہو گا جو ممکنہ امریکی فورسز کی جارحانہ نقل و حرکت کے جواب میں بروئے عمل لائی جانی ہو گی۔ پاکستان کو اپنی محدودات (Limitations) اور امریکی مقدورات (Copabilities)کا بخوبی علم ہے۔ پاکستان کسی سے خواہ مخواہ الجھنا نہیں چاہتا۔ اس لئے پہل امریکہ ہی نے کرنی ہے۔ لیکن جب بلی کو عاجز کردیا جائے گا تو اس کو معلوم ہے کہ چیتے کی آنکھیں کہاں ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ جو لگڑ بگڑ اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں ان کی دُم اور دُم کے عقبی حصوں کا بھی پتہ ہے کہ کہاں ہیں۔!اگر امریکہ مشرق وسطیٰ کو ٹھکانے لگانے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کو بھی اُسی لاٹھی سے ہانک سکتا ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ لاٹھی صرف اس کے پاس ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے دوسرے کھلاڑیوں کے پاس بھی موجود ہے۔ یہ باہمی خود کشی کا عالمگیر کھیل اگر امریکہ کھیلنا چاہتا ہے تو اس کے نصیب اور ہماری قسمت!

میں حیران ہوں کہ اس خطے کے دوسرے ممالک یعنی افغانستان، ایران اور انڈیا اس حقیقت سے بے خبر کیوں ہیں کہ وہ بھی اُسی پل صراط پر کھڑے ہیں جس پر پاکستان کھڑا ہے۔ پاکستان اگر اس پل سے گرا تو باقیوں کو بھی گرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ان تمام سٹیک ہولڈرز کو کہ جن کا مستقبل اس خطے سے وابستہ ہے، آگے بڑھنا چاہئے اور کوئی ایسا حل نکالنا چاہئے جو امریکی ہوس کو لگام دے۔۔۔ تین چار روز پہلے کراچی میں روسی قونصلر جنرل الیگزنڈر خوزین (Aleksander Khozin) نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نہ صرف یورپ، فلسطین، اسرائیل اور شام کے معاملات پر بریفنگ دی اور روس کا موقف واضح کیا بلکہ روس اور پاکستان کے باہمی تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا:’’گزشتہ تین چار برسوں میں روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو فروغ ملا ہے اور دونوں ممالک کوشاں ہیں کہ اس خطے میں امن قائم کیا جائے‘‘۔ ان سے سوال کیا گیا کہ صدر پوٹن کب پاکستان آرہے ہیں تو اس کے جواب میں خوزین نے کہا کہ:’’ہم سفارتکارروں کا کام ملکوں کے درمیان پل بنانا ہے جو ہم بنارہے ہیں۔ پاکستان کی وزٹ کی تاریخ کا فیصلہ صدر پوٹن نے خود کرنا تھا‘‘۔۔۔ میرا خیال ہے امریکہ کو روسی قونصل جنرل کی اس بریفنگ کی ٹائمنگ اور ضرورت پر بھی غور کرلینا چاہئے!

انڈین میڈیا کے بہت سے تجزیہ کار بھی اب گزشتہ ایک برس سے ٹرمپ کے کردار و گفتار کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کو بھی اب محسوس ہونے لگا ہے کہ اگرچہ امریکہ، اب انڈیا کا سٹرٹیجک پارٹنر بن چکا ہے لیکن وہ کئی بار پاکستان کا سٹرٹیجک پارٹنر اور ناٹو کے باہر ناٹو اتحادی رہ چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس نے پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے کیا ویسا ہی سلوک وہ انڈیا کے ساتھ نہیں کرے گا؟۔۔۔ مولانا حالی کا کا ایک شعر یاد آرہا ہے،اسی پر ختم کرتا ہوں:
تمہارا تھا دوستدار حالی اور اپنے بیگانے کارضاجو
سلوک اس سے کئے یہ تونے تو ہم سے کیا کیا نہ کیجئے گا
(ڈیلی پاکستان)