شہباز شریف کا جرم اور عمران خان

لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے تعداد کے لحاظ سے ناکام جلسے کے بعد مجموعی طور پر سیاسی حوالے سے جو پیغام گیا ہے اس میں ن لیگ کے لیے مضبوطی اور اپوزیشن کے لیے کمزوری کا پیغام گیا ہے۔میرے سمیت بہت سے لکھنے والے اور تجزیہ کرنیوالے حضرات کا خیال تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے پہلے جلسے کے بعد مومینٹم تیزی سے آگے بڑھے گا۔ یہ جلسہ تیزی سے دھرنے کی شکل اختیار کرے گا ۔اتنی دیر میں ختم نبوت کے پروانے بھی ساتھ مل جائیں گے۔ مگر متحدہ اپوزیشن ایسانہیں کر سکی حالات و واقعات کا غیر جانبدار تجزیہ کریں تو اپوزیشن کے اس دعوے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور رانا ثنا ء اللہ خان فوری طور پر استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں۔استعفے کے مطالبے کے حوالے سے اگر میاں شہبازشریف کے جرائم کا جائزہ لیا جائے تو انکا سب سے بڑا جرم مجھے یہ لگتا ہے کہ میاں شہباز شریف نے بدترین دباؤ میں طرح طرح کی سازشوں کے باوجود پنجاب میں کافی کام کیا ہے ۔میاں شہبازشریف کے ان کاموں کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ ن سخت ترین دباؤ کے باوجود بھی ضمنی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرر ہی ہے۔گزشتہ انتخابات میں بھی ن لیگ کو ملنے والی کامیابی میں زیادہ تر کردار میاں شہبازشریف کے منصوبوں کا ہی تھااور اب 2018ء کے انتخابات میں بھی اگر مسلم لیگ ن کو کامیابی ملے گی تو اس کا 75فیصد کریڈٹ میاں شہبازشریف کا ہی ہوگا۔
کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ میاں شہبازشریف ن لیگ کے دوسرے لیڈروں کی طرح صرف بیانات ہی نہیں دیتے بلکہ اپنا کام بھی جاری رکھتے ہیں۔ جن حالات میں انہوں نے میٹرو کا پراجیکٹ مکمل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔میٹرو بس جس کو جنگلہ بس کہا جاتا تھا بعد میں اسی کی بنیاد پر ن لیگ کو 2013ء میں لاہور سے ووٹ بھی ملے۔ اپوزیشن کے بقول اگر یہ پراجیکٹ واقعی فضول تھا پیسے کا ضیاع تھا تو بھی اس کو بہترین انداز میں ن لیگ نے عوام کے سامنے پیش کر کے انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنے کریڈٹ میں بدل دیا جبکہ اپوزیشن اس حوالے سے اپنا موقف جاندار طریقے سے عوام تک نہیں پہنچا سکی اسی طرح میاں شہباز شریف جن حالات سے گذر کر اورنج لائن کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اورنج لائن کو روکنے کیلئے کیا کچھ کیا جارہا ہے۔
بات ہو رہی تھی نواز شریف کے بعد اب میاں شہبازشریف کا جرم کیا ہے۔ اس کی حکومت کیوں ختم ہوجانی چاہیے؟ اور ان کو سیاست کرنے کا قطعی کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ ان کو جیل میں ہونا چاہیے۔ان کا جرم باآسانی سمجھ آنے والا ہے۔انہوں نے بدترین حالات میں بھی پارٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا رکھا ہے۔ بڑے بھائی کیخلاف بغاوت نہیں کی۔ ان کا یہ بھی بہت بڑا جرم ہے کہ انہوں نے دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب کو جس طرح آگے بڑھایا۔یہ بھی ان کا جرم ہے کہ ان کے منصوبوں کی وجہ سے نون لیگ ایک بار پھر2018 میں عوام کے پاس جانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔اگر نون لیگ کی کسی جگہ کوئی کمزوری تھی تو وہ عمران خان کی حماقتوں اور غلطیوں نے پوری کردی ہے
اگر میاں نوازشریف کی سیاست پر غور کرتا ہوں تو مجھے واقعی یہ یقین آجاتا ہے کہ وہ قسمت کے بڑے دھنی ہیں۔کیونکہ ان کو برے ترین حالات میں بھی سیاسی دشمن عمران خان جیسا شخص ملا ہے۔جس نے سیاسی طور پر تیزی سے قانون مکافات عمل کا شکار ہو کر زوال پذیر ہو تے نواز شریف کو نئی سیاسی زندگی دے دی ہے اور اس حوالے سے مائنس نواز شریف کا فارمولا بنانے اور اس پر عمل درآمد کروانے والوں نے بھی خوب حصہ ڈالا ہے، یعنی جس نواز شریف سے5سال پورے ہونے کے بعد میڈیا اور عوام نے سوال کرنے تھے حضور آپ کے منشور پر کس حد تک عمل درآمد ہوا ہے آپ نے جو بڑے بڑے دعوے کیے تھے وہ پورے کیوں نہیں ہوئے؟
آپ نواز شریف کی قسمت کو ملاحظہ کریں عوام میڈیا ان سے انکی کارکردگی کے حوالے سے سوال نہیں کر رہے بلکہ نواز شریف میڈیا اور عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ؟اب جس نواز شریف کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف ختم نبوت کے ایشو کے بعد پاکستان کے کسی شہر میں جلسہ بھی نہیں کر سکے گا وہ نواز شریف جگہ جگہ پر جوش انداز میں جلسوں سے خطاب کر کے اپوزیشن جماعتوں کی باقاعدہ کلاس لے رہے ہیں۔دوسری طرف عمران خان جو سرٹیفائیڈ صادق اور امین ہیں وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے بعد بھی نوازشریف کی کرپشن کے حوالے سے عام آدمی کو قائل نہیں کر سکے اگر وہ آئندہ عام انتخابات میں بھی پانامہ کے ایشو پر نوازشریف اور اس کے خاندان کو چارج شیٹ نہ کر سکے تو 2018ء کے انتخابات کے نتائج بھی حیران کن ہو سکتے ہیں ۔پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کو ن لیگ اور شریف برادران کو گرانے کے لیے مکمل طور پر عدالتی فیصلوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی کچھ کرنا پڑے گا۔ صرف گالیاں دینے اور بلیم گیم سے عوام پوری طرح عاجز آچکے ہیں ۔اب الیکشن کا ماحول بن رہا ہے اب عمران خان اور اپوزیشن جماعتوں کو قوم کے مسائل کا حل بھی پیش کرنا ہوگا۔ ورنہ 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی اپوزیشن اپنے مینڈیٹ کے چوری ہونے کا گلہ کرتے ہوئے نظر آئے گی اور ویسے بھی عمران خان اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر متحدہ اپوزیشن کا خواب چکنا چور کردیا ہے۔یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ عمران خان کی غلطیاں شریف برادران کی خوبیاں نہیں بن سکتیں۔لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ نون لیگ عمران خان کی غلطیوں کو بہتر حکمت عملی کے ذریعے اپنی خوبیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی میں مجھے کوئی ایسا میڈیا مینجر یا تھنک ٹینک نظر نہیں آتا جو نواز شریف اور نون لیگ کی غلطیوں کو اپنی خوبیوں میں بدل سکے۔اسی لیے میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اگر عمران خان نے فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ انہوں نے روایتی سیاستدانوں کے ذریعے روایتی سیاست ہی کرنی ہے تو پھر روایتی سیاست کے کچھ طور طریقے بھی سمجھ لیں۔ جتنی جلدی ہو سکے اپنی جیب میں پرس رکھنا شروع کر دیں ۔
گھر آنیوالے مہمانوں کی خاطر تواضع یعنی ڈیرے داری کا نظام بھی بنا لیں اور اپنی طبیعت کو روایتی سیاست کے مطابق ڈھال لیں۔ کیونکہ دنیاکی تاریخ میں ایسا کوئی انقلابی پیدا نہیں ہوا۔جو روایتی لوگوں کے ذریعے روایتی سیاسی طریقے کو اختیار کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنا چاہتا ہو اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر اپنے آپ کو انقلابی اور نظام کا باغی ثابت کرنے کی کوشش کرے۔یہ آدھا تیتر اورآدھا بیٹر نہیں چلے گا۔ان کو مکمل طور پر روایتی سیاستدان یا پھر مکمل طور پر انقلابی بننا پڑے گا۔ ورنہ 2018 میں ایک بار پھر ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔