توہین عدالت کا موسم

پاکستان کے عدالتی نظام کا جائزہ لیا جائے تو بغیر کسی تحقیق کے آپ اس حقیقت تک پہنچ جائیں گے کہ جتنی عدلیہ کی تاریخ ہے اتنی ہی طویل توہین عدالت کی کہانی بھی ہے۔اس حوالے سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ ہو یا پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے عدلیہ کوکینگرو کورٹس قرار دینے کا معاملہ ہو،ہر دور میں ہمارے سیاستدان عدالتوں اور فاضل جج صاحبان سے شاکی رہے ہیں، جبکہ ڈکٹیٹر حضرات نے تو سرے سے عدلیہ کا حلیہ ہی تبدیل کرنے کی بار بار کوشش کی، مگر عدلیہ نے نہ صرف بار بار اپنا دفاع کیا، بلکہ ہر بار زیادہ طاقت سے ابھر کر سامنے آئی ۔یہ بھی درست ہے کہ اسی عدلیہ کی ترازو لگی عمارتوں سے نظریہ ضرورت پر مبنی فیصلے برآمد ہوتے رہے اور بہت سے ججز نے جہاں ڈکٹیٹرز کا دم بھرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا یاوہیں بہت سے ججز نے اپنی نوکریوں اور مراعات کی پروا نہ کرتے ہوئے بغاوت بھی کی اور جمہوری سسٹم کا ساتھ دیا، لیکن ہمارے ہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جمہوریت پسندوں نے ڈکٹیٹرز بننے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے مفادات کے راستے میں رکاوٹ عدلیہ کو پچھاڑنے کی پوری کوشش کی، جبکہ دوسری جانب ڈکٹیٹرز نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے کے لئے اسی عدلیہ کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا، لیکن یہ ملین ڈالر سوال ہے کہ جس طرح 12مہینے جمہوریت کو خطرہ رہتا ہے بالکل اسی طرح عدلیہ کی بھی توہین کا معاملہ آئے روز عام و خاص اور عدلیہ میں زیر بحث رہتا ہے ۔ایسا کیوں ہے ؟سیاستدان آخر عدلیہ کی توہین کیوں کرتے ہیں؟سیاستدان کی نسبت اگر کسی بیورو کریٹ کو سزا دی جاتی ہے تو وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدلیہ کو بُرا بھلا نہیں کہتا آخر کیوں سیاستدان عدلیہ سے زیادہ شاکی رہتے ہیں؟کیا جمہوریت آزاد عدلیہ کے تصور کے بغیر مضبوط ہو سکتی ہے؟ ہر سوال کا جواب ناں میں ہوگا ۔توہین عدالت روزانہ کی بنیاد پر کیوں ہوتی ہوتی ہے ؟توہین کرنے والوں کے ساتھ کہیں توہین کروانے والے بھی ذمہ دار تو نہیں ہیں؟ اس پر بحث سے پہلے ضروری ہے کہ گزشتہ روز توہین عدالت کے ایک کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا جائے ۔توہین عدالت کے مقدمے میں موصوف کو 5سال کی نا اہلی ایک ماہ قید اور 50ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔اس حقیقت کو تو ہم بہت پہلے مان چکے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، لیکن سیاست اس قدر بے رحم ہوسکتی ہے اس سوال کا جواب پہلی بار میاں نواز شریف کے طفیل عدلیہ کو ملا ہے ،جس میں موصوف نے ایک نظریہ نواز شریف متعارف کروایا ہے جو انکی ذات سے شروع ہوکر پورے خاندان کے ارد گرد گھوم کر دوبارہ انکی ذات پر ختم ہو جاتا ہے اور موصوف باری باری اپنے ساتھ محبت کرنے کے جرم میں اپنے ساتھیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،پہلے کامریڈ پرویز رشید اس کا شکا ر ہوئے پھر مشاہد اللہ کو نواز شریف سے محبت کی سزا دی گئی اب نہال ہاشمی بھی شہید جمہوریت کا اعزاز پا کر جیل یاترہ کے لئے تشریف لے جا چکے ہیں۔نہال ہاشمی آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا سوچ رہا ہو گا کہ میں جس طرح نواز شریف نظرئیے کا دفاع کرتے کرتے آج جیل آ پہنچا ہوں وہ حقیقت میں ہے کیا؟بقول برادرم رؤ ف کلاسرہ نہال ہاشمی کو کراچی سے پنجاب لا کر جہلم کی سیٹ سے سینیٹر بنوایا گیا تھا ، وقت آنے پر اسے استعمال کیا گیاججوں کو گالیاں دلوائیں،جیل کروائی ،سالہاسال سے سیاسی جدوجہد کرنے والے ایک سیاسی ورکر کے پروفیشنل اور سیاسی مستقبل کو تباہ کر کے نظریہ نواز شریف کا ساتھ دینے کی سزا دلوائی گئی۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان میں توہین عدالت کیوں ایک فیشن بنتا جارہا ہے اور مہذب ممالک میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟اسکی ایک وجہ تو بہت سادہ ہے کہ جن کو ہم مہذب یا تہذیب یافتہ ممالک کہتے ہیں اور خود کو غیر مہذب کہتے ہیں اس کے لئے یہی دلیل کافی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ ججز حضرات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر عزت دار شخص اپنی عزت کا معیار خود طے کرتا ہے اگر کوئی شخص خوداپنی عزت نہیں کرے گا تو اسکی کوئی بھی عزت نہیں کرے گا۔ماضی میں ایسا سینکڑوں بار ہو چکا ہے کہ ایک صاحب اٹھے، جس کی بیوی اُسے کو ناشتہ بھی شائد نہ بنا کر دیتی ہو اس نے عدلیہ کو گالیاں دیں پہلے عدلیہ خاموش رہی بعد میں میڈیا ،سول سوسائٹی یا پھر وکیل نے رٹ کر کے توجہ دلائی کہ عدالت عظمیٰ کی توہین ہوگئی ہے پھر عدلیہ نے نوٹس جاری کیا کئی مہینے تک ملزم حیلے بہانے کرتا رہا ۔وکیلوں کے ذریعے ٹال مٹول سے کام لیتا رہا ۔عدالت کا کئی ماہ تک وقت ضائع کرنے کے بعد موصوف عدالت آئے اور آکر غیر مشروط معافی کے لئے ایک معافی نامہ داخل کیا ۔عدالت نے ایک سیکنڈ میں معافی دے کر اپنی جان چھڑوائی ۔اگر تو یہ تماشا اسی طرح آئندہ بھی چلتا رہا تو کبھی بھی توہین عدالت کی کہانی نہیں ہوگی، چیف جسٹس ثاقب نثار اگر واقعی بد تمیزی اور توہین عدالت کا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں تو غیر مشروط معافی کا مذاق فوری طور پر بند کروا دیں گالیاں خود بخود بند ہو جائیں گی۔ ورنہ توہین عدالت کے موسم کا آغاز ہو چکا ہے آگے عام انتخابات ہیں اس موسم تھا۔ وقت آنے پر اسے میں شدت آئے گی۔