لاہور پولیس زندہ باد…..

لاہور پولیس زندہ باد کے عنوان سے گزشتہ روز شائع ہونے والے کالم کی پہلی قسط کے ساتھ ہی جہاں پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے برلب سڑک دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں لاہور پولیس کے ذمہ داران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ان کو الٹی میٹم دیا کہ ملزمان کی گرفتاری کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے ‘ اجلاس میں خادم اعلیٰ نے لاہور پولیس کے اعلیٰ افسران سے یہ بھی سوال کیا کہ واردات کے وقت ڈولفن فورس کہاں تھی اور باقی پولیس جس کو موبائل ہونا چاہئے تھا وہ کہاں غائب تھی؟ ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا اور دوسری طرف کالم کی اشاعت کے سا تھ ہی مجھے لگ بھگ 10 متاثرہ افراد نے فون کر کے درخواست کی کہ ہمارے ساتھ ہونے والی وارداتوں کا بھی ازراہ کرم آئندہ کالم میں ذکر کیا جائے جن میں سے نصف صحافی حضرات شامل تھے اور تمام کے تمام متاثرہ افراد کی دکھ بھری داستانیں اتنی طویل ہیں کہ ان کا ایک دو کالموں میں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ انشاء اللہ کبھی پھر سہی ان تمام متاثرہ افراد کے واقعات اور لاہور پولیس کے کارناموں کا ضرور ذکر ہو گا ‘ سر دست جو واقعہ میں نے کالم کے پہلے حصے میں شروع کیا تھا اس کو مکمل کرنا چاہوں گا تا کہ کہانی کا ربط بھی قائم رہ سکے اور معاملے کو بھی کسی نتیجے پر پہنچایا جا سکے۔ گزشتہ سے پیوستہ کہانی کے بارے قارئین آپ یقیناًسوچ رہے ہوں گے کہ اس کے بعد میں چپ کر کے گھر بیٹھ گیا ہوں گا۔ نہیں بالکل نہیں میں نے جناب سی سی پی او سے ایک بار پھر رابطہ کیا اور تقریباً10 سے 12 ایس ایم ایس کر کے اپنی فرسٹریشن اور غصہ کا اظہار کیا۔ ان کی مہربانی کہ وہ رات کے وقت بھی فون سن لیتے ہیں معاملے کے حل کیلئے بھاگ دوڑ بھی کرتے نظر آتے ہیں مگر ان کی ٹیم اتنی عظیم ہے کہ وہ ان کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر جان چھڑا لیتی ہے۔ سی سی پی او نے ایک بار پھر مجھے فون کر کے کہا کہ اب عمر ورک کی جگہ سی آئی اے انچارج راجہ بشارت آئے ہیں وہ آپ سے رابطہ کرینگے کچھ دن گزر گئے بالآخر راجہ بشارت کا ایک روز فون آ ہی گیا انہوں نے مجھے دفتر آنے کیلئے کہا میں اگلے روز ان کے دفتر حاضر ہو گیا۔ باریش ایس ایس پی راجہ بشارت سے دو تین ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے کئی بار مجھے خوشخبری دینے کا وعدہ کیا۔ ایک دن تو انہوں نے کہا کہ آپ کو ادھوری خوشخبری مبارک ہو مگر مکمل پرسوں دینگے۔ اس کے بعد میں نے کئی دن تک رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر موصوف نے فون اٹینڈ کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ ایک روز میں راجہ بشارت سے رابطہ کر کے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ سوری غلطی ہو گئی تھی خوشخبری کیلئے انتظار کریں۔ انہوں نے ایک بار پھر مجھے اپنی شرافت ، پاک دامنی اور پولیسانہ مہارت کے کئی قصے سنائے۔ دودھ پتی پیش کی اور میں ایک بار پھر خوشخبری کا وعدہ پورا ہونے کی امید کے ساتھ واپس آ گیا ۔ اس کے بعد ایک بار پھر میں نے موصوف کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ سی آئی اے کوتوالی تشریف لے جائیں وہاں سے آپ کا کام ہو جائے گا۔ ملزمان گرفتار ہیں۔سی آئی اے کوتوالی کی عمارت کو ہم نے بہت عالی شان کر دیا ہے اس کو بھی دیکھیں اور ملزمان کی شناخت بھی کریں اور اپنا سامان بھی لے لیں۔ راجہ بشارت کے بار بار اصرار پر میں نے اگلے ہی روز فیصلہ کیا کہ آج یہ مرحلہ بھی طے کر ہی لیتے ہیں۔ اندرون شہر کو جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ سی آئی اے کوتوالی جانے کا مطلب کیا ہے میں تقریباً تین گھنٹے کی مشقت کے بعد وہاں پہنچا تو وہاں پر ایک اور ایمانداری کی پوری کتاب کے ساتھ پولیس آفیسر ڈی ایس پی خالد ابو بکر موجود تھے انہوں نے کہا کہ دراصل ہم کو پتہ چلا ہے کہ آپ جیسے لوگوں کے جو مہنگے موبائل ہوتے ہیں وہ بوریاں بھر کر افغانستان سمگل کئے جا رہے ہیں۔ اس لئے آپ کا موبائل ابھی تک ایکٹو نہیں ہوا۔ میں چونکہ ایماندار آفیسر ہوں جب ملے گا آپ کو مل جائیگا۔ مجھے سمجھ آ گئی پولیس کلچر کچھ زیادہ ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اور آئی جی پنجاب نے اس قدر تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کیلئے نہیں کہا تھا مگر یہاں تو صورتحال ہی اور ہے۔ وہاں سے ایک بار پھر میں مایوس ہو کر واپس روانہ ہوا اور میں نے گاڑی میں بیٹھ کر ایس ایس پی راجہ بشارت کو کال کی مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہ کیا میں نے اپنے دوست شاہد قادر کو کال کی کہ میرے ساتھ تو ایک بار پھر یہ لطیفہ ہوا ہے تو انہوں نے انکشاف کیا کہ سینئر صحافی رانا عظیم اور سلمان غنی کو بھی دن دیہاڑے مال روڈ پر لوٹ لیا گیا ہے۔ ایک فوجی آفیسر کو کینٹ میں بھی لوٹ لیا گیا ہے میں نے شاہد قادر کو کہا کہ خدارا ایسی پولیس جس نے انسانیت کی تذلیل کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے آپ اس کی پی آر کیوں کرتے ہو، آپسر عبدالقادر کی عظمت کے وارث ہیں جو قائداعظم اور علامہ اقبال کے ساتھی تھے مگر آپ کن حضرات کے ساتھی ہیں۔ مجھے یہ بھی سمجھ آ گئی کہ لاہور پولیس کے سینئر آفیسرز بیرون ملک اپنے بچوں کو کیوں شفٹ کر رہے ہیں اور مختلف ممالک کی شہریت کیوں لے رہے ہیں۔اگر ان کو یہاں کے حالات ٹھیک ہونے کا یقین ہو تو وہ کبھی بھی دوسرے ممالک کی شہریت لینے کیلئے خفیہ دورے نہ کریں۔ شاید اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس لوگوں کے دکھوں کا کوئی علاج نہیں۔ اگر لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کا حلف اٹھانے والے پولیس افسران اپنے بچوں کو اور اپنے بزنس کو بیرون ملک شفٹ کرنے کو ترجیح دیں گے تو ایسے افسران کی یہاں کے حالات کو بہتر کرنے میں کتنی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ میں خادم اعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے پوچھتا ہوں کہ جن کے پاس بیرون ملک شفٹ ہونے کیلئے دولت نہ ہو جو اسی دھرتی پر رہنا چاہتے ہیں ان کا آخر جرم کیا ہے۔ کیا ان کی قسمت میں صرف ڈاکے ، ناکے ، فاقے اور دھماکے ہی رہ گئے ہیں؟ مجھے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ آ گئی کہ راجہ بشارت کی چند دن بعد ریٹائرمنٹ ہے وہ وقت نکال رہے ہیں۔ 6 اگست کو میرے ساتھ وقوعہ پیش آیا 109 دن گزرنے کے بعد بھی شاہد قادر بضد ہے کہ اگر عمر ورک اپنی سیٹ پر ہوتا تو ایک ہفتے کے اندر اندر آپ کی واردات ٹریس ہو جاتی ۔ عمر ورک کے گھر بیٹھنے کی وجہ سے لاہور عملاً چوروں اور ڈاکوؤں کے سپرد ہو چکا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ایک عمر ورک کے ہونے یا نہ ہونے سے واقعی اتنا فرق پڑ سکتا ہے۔ تو لاہور اور پنجاب پولیس کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے گزشتہ دنوں اس حد تک مراعات دیں ‘ پروموشنز کا اعلان کیا وہ لاکھوں کی تعداد میں پولیس آخر کیا کر رہی ہے؟ قارئین اگر دیکھا جائے تو صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے ‘ لاہور پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) امین وینس جو ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے پولیس آفیسرز ہیں، انہوں نے اگر اپنی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہ کیں تو لوگوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کے سلوگن جس کا وہ بار بار ذکر کرتے ہیں اس پر عمل کرنے کے امکانات کم سے کم ہوتے جائیں گے اور دن دیہاڑے لوگ اسی طرح لٹتے رہیں گے ‘ کالم نگار کالم لکھتے رہیں گے ‘ رپورٹرز خبریں چھاپتے رہیں گے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیتے رہیں گے مگر اس ساری کہانی کا انجام مایوسی اور ریاست پر عدم اعتماد کی شکل میں سامنے آئے گا اور اس کے بعد صورتحال کو سنبھالنا شاید ممکن نہ رہے۔ جناب سی سی پی او آپ ہمیشہ گلہ کرتے ہیں کہ آپ صحافی دوست لاہور پولیس زندہ نہیں کہتے ۔ تو لو آج ایک بار پھر ہم کہتے ہیں لاہور پولیس زندہ باد۔ مگر لاہور کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو کیا کہیں جو ہر روز لٹ رہے ہیں۔ (ختم شُد)