بریگیڈئر رانجھا اور عمران خان

ایک وقت تھا کہ نئے پاکستان کے متوقع معمارعمران خان کی کوئی تقریر بریگیڈئر مظفر علی رانجھاکے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوا کرتی تھی۔عمران خان نے رانجھاصاحب کو اس وقت زیادہ عزت بخشی جب وہ 2014 کے دھرنے میں پارلیمنٹ کے باہرکنٹینر پر قیام پذیر تھے۔ کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان جوش خطابت میں سب کے بخیئے ادھیڑ رہے تھے اور تقریر کا معیار یہ ہوتا تھا کہ پہلے آؤپہلے پاؤ کی بنیاد پر جو شخص بھی عمران خان تک پہنچ جاتا اور ہاتھ سے لکھی چٹ انہیں تھما دیتامستقبل کے وزیراعظم بغیر سوچے سمجھے اس پر بولنا شروع کردیتے۔بالکل انہی دنوں کسی نے بریگیڈئر رانجھا کی ایک چٹ بھی ان کے ہاتھ میں تھمادی۔پھر روزانہ کی بنیاد پر بریگیڈئر رانجھا کا ذکر ہونے لگااور کئی بار تو عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ اوئے بریگیڈئر تم نے 2013 میں دھاندلی کرواکر شریف برادران کو جتوایا میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا۔عین اس وقت بریگیڈئر رانجھا اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ لیکر سرگودھا میں اپنے ڈیرے پر اپنے باغ سے تازہ تازہ کینو توڑ کرکھا رہے ہوتے تھے۔اور مستقبل کے وزیر اعظم کی انفارمیشن پر مسکرارہے ہوتے تھے۔اور عمران خان کی تقریرمیں بریگیڈئر رانجھا کا ذکر سن کر ان کا کوئی دوست ان کو فون کرکے اس کے بارے میں پوچھتاتووہ پہلے زور سے قہقہہ لگاتے پھر سرگودھاآکر کینو اور مکھن کے ساتھ ساگ پراٹھے کھانے کی دعوت دیکر بات کا رخ موڑ دیتے۔یہ شاید ان کے بڑوں کی تربیت کا اثر تھا یا پھر ان کے ادارے کی گرومنگ کا کمال تھا ۔جس کو وہ آج بھی ماں کا درجہ دیتے ہیں۔عمران خان کے الزامات کے جواب میں انہوں نے نہ تو کبھی تقریر کی نہ جلسہ کیانہ ’’ پریس کانفرنس‘حالانکہ وہ یہ تینوں کام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملک و قوم کیلئے قربانی دینا، خطروں سے کھیلنا اور مشکل ترین حالات میں ڈٹ جانا ان کے خون میں شامل ہے۔ اور انکی قائدانہ صلاحیت میں پاک آرمی کے ادارے نے بھی کردار ادا کیا ہے۔میرا خیال تھا کہ وہ عمران خان کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد سیاست کا رخ کریں گے اور کسی حلقہ سے نواز لیگ کا ٹکٹ لیکر ممبر اسمبلی یا پھر سینیٹر بن جائیں گے۔لیکن انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام کی خواہشات کے برعکس ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس کے بعد عمران خان نے ان کا ذکر خیر کیوں نہیں کیا۔اس کے بارے میں راقم کچھ بتانے سے قاصر ہے۔ہوسکتا ہے کسی دن ایک بار پھر کوئی صاحب چٹ عمران خان کے ہاتھ میں تھمادے۔ اور وہ دوبارہ بریگیڈئر رانجھا کو رگڑا لگا دیں۔ لیکن بریگیڈئر رانجھا دن رات جس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ ان بیانات اور تقریروں سے بالکل بے نیا ز ہوکر اپنے کام پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔وہ آج کل جس ادارے کے سربراہ ہیں۔ اس کو عرف عام میں’’ آنٹی کرپشن‘‘کہا جاتا تھا۔
’’ آنٹی کرپشن‘‘کو اینٹی کرپشن میں تبدیل کرنے کا ٹاسک بلاشبہ ایک بڑا کام تھا جو انہوں نے مختصر عرصے میں پورا کردیا ہے۔بریگیڈئر رانجھا نے اینٹی کرپشن پنجاب کا سربراہ بننے کے بعد محکمہ میں بہت سی اصلاحات کی ہیں۔محکمہ میں سالہا سال سے براجمان دوسرے محکموں کے ملازمین سے جان چھڑانے کیلئے باقاعدہ ایک نظام وضع کیا ہے۔مختلف محکموں کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں سے گذشتہ ایک سال میں تین ارب سے زائد کی رقم ریکورکی ہے۔ اور ہزاروں زیر التوا مقدمات کو بھی نمٹایا ہے ساتھ ہی ساتھ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ وہ نیب کی طرح خوف و ہراس پیدا کیے بغیرنیب سے بہتر کام کررہے ہیں۔ مختلف شہروں اور خاص کر تمام ڈویژنز کی سطح پر باقاعدہ فائیو سٹار قسم کے محکمانہ دفاتر قائم کیے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا ویژن بہت کلیئرہے۔ وہ کہتے ہیں جب مختلف قسم کے آفیسرز اور اہلکاروں کو پکڑنے والوں کا اپنا معیار زندگی ان سے بہتر نہیں ہوگا تو وہ ان کو کیسے پکڑیں گے؟پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈاکٹر عمر سیف کی جھلک جس طرح پنجاب کی تعمیر و ترقی میں نظر آتی ہے۔اس کی ایک خوبصورت نظیر اینٹی کرپشن پنجاب کا آئی ٹی پر مبنی کیس منجمنٹ سسٹم ہے۔جس سے سندھ گورنمنٹ بھی استفادہ کرچکی ہے۔ اور اب کے پی کے حکومت بھی شرماتے شرماتے رابطہ کررہی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ آج کل جو ٹھیکیدار کے پی کے میٹرو بنا رہا ہے۔یہ شخص بقول بریگیڈئر رانجھااینٹی کرپشن پنجاب کا’’ بھگوڑا‘‘ ہے۔اینٹی کرپشن پنجاب نے موصوف کیخلاف میٹرو پراجیکٹ میں ناقص میٹریل استعمال کرکے لوگوں کی زندگیوں کو رسک میں ڈالنے جیسے جرم کے تحت انکوائری کی تو پتہ چلا کہ موصوف نے ٹھیکہ حاصل کرنے کیلئے ٹرسٹ بنک کی جو سی ڈی آر جمع کروائی تھی وہ بھی جعلی تھی اور ٹھیکہ بھی ملی بھگت کرکے حاصل کیا تھا۔اب خیبر پختونخواکی میٹرو اور پی ٹی آئی کی حکومت پر اللہ رحم کرے ۔ اس کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ مذکورہ ٹھیکیدار پر ایک یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے میٹرو جس پر روزانہ لاکھوں افراد نے سفر کرنا ہے کے پلرزچھوٹے بنادیئے تھے۔جس سے یہ خطرہ تھا کہ خدانخواستہ میٹرو کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہوسکتی تھی۔جب سے مجھے پتہ چلا ہے کہ کے پی کے میں بھی وہی ٹھیکیدار میٹرو بنا رہا ہے میں روزانہ پشاور کے بھائیوں کیلئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو سلامت رکھے۔اینٹی کرپشن کے محکمے کا کام کرپشن کی شکایات پر کام کرنا ہی ہوتا ہے۔لیکن اگر ایسے محکمے کا سربراہ ویژن رکھتا ہواور کرپشن کی شکایت پر بروقت نوٹس لیکر کارروائی کردے۔ تو یہ حکومت کی کارروائی ہوتی ہے۔ اور اگرمیڈیا یا عدلیہ کسی محکمے میں کرپشن کا نوٹس لے یا توجہ دلائے تو یہ نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔بریگیڈئر رانجھا نے یہ سبق خوب پڑھا ہے کہ کرپشن کی ہرشکایت پر بروقت کارروائی ضروری ہے۔ بریگیڈئر رانجھا کے اسی ویژن اور عادت کے باعث وزیر اعلی پنجاب کو نیب کے حالیہ نوٹسز کے جواب میں پورا دفاع کرنے کا موقع ملا ہے۔جب میاں شہباز شریف نے اینٹی کرپشن کی ایف آئی آرز اور انکوائری رپورٹس لہراتے ہوئے کہا کہ کیا کرپشن کا نوٹس لینا میراجرم ہے؟ تو یہ اس بات کی تصدیق تھی کہ اینٹی کرپشن پنجاب ٹھیک کام کر رہی ہے جناب خادم اعلی تاریخ کا یہی سبق ہے کہ اگر آپ کی ٹیم میں ایماندار اور ویژنری ساتھی ہوں گے تو کپتان سرخرو ہوگا۔ ورنہ پھنسانے والے حضرات کی تو فی زمانہ کبھی بھی کمی نہیں ہوتی۔ ایسے حضرات تو ہر حکومت کے ارد گرد کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کو پہچاننا ہی دانشمندی ہے۔ اور اپنی ٹیم کا انتخاب ہی سب سے بڑاامتحان ہوتا ہے۔