مقبول ترین سپہ سالار کی باعزت رخصتی

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے جوں جوں دن قریب آ رہے ہیں اسی حساب سے گزشتہ 3 سال سے جاری مختلف افواہیں آہستہ آہستہ دم توڑتی جا رہی ہیں بہت سے ایسے دوست جن کی خواہش تھی کہ جنرل راحیل شریف جو ایک طرف بھارتی جارحیت اور سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہیں دوسری طرف ضرب عضب جیسے آپریشن کی قیادت و نگرانی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دنیا بھر کی آرمی کے ادارے اور پاکستان کے خلاف جاری سازشوں کا بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ سی پیک کے حوالے سے بھی جنرل راحیل شریف اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،وہ یہ تمام کام چھوڑیں سب سے پہلے حکومت اور جمہوریت کی چھٹی کریں اب ایسے دوستوں کی خواہش بھی دم توڑ رہی ہے کسی شاعر نے شاید ایسے وقت کیلئے یہ کہا تھا کہ ” ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے “ جنرل راحیل شریف کو ہمارے دوست اینکرز سمیت کئی سیاستد انوں نے بھی دانہ ڈالنے کی کوشش کی ،ان کو انکی مقبولیت کا واسطہ بھی دیا گیا ،یہ بھی کہا گیا کہ ” جانے کی باتیں جانے دو“اور کسی کسی مقام پر اس طرح پوسٹرز بھی نظر آئے کہ ” مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کرو گے“۔ کئی ریلیاں ، جلسے ، جلوس بھی نکلے ،اخبارات پر خبریں ، آرٹیکل اور ٹی وی پروگرام میں تو باقاعدہ ”شام غریباں “کی کیفیت رہی مگر جنرل راحیل شریف بھی کمال شخصیت ہیں اور ان کے ساتھی بھی کمال کے لوگ ہیں تمام کے تمام ثابت قدم رہے۔ 2014ءکے دھرنے میں ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ جب پوری دنیا کہہ رہی تھی کہ اب قصہ ختم ہو چکا ہے۔ خبریں عام تھیں کہ راولپنڈی سے ٹرپل ون بریگیڈ کو ٹیک اوور کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرپل ون بریگیڈ آئی ضرور مگر صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے یہ ایک ایسا وقت تھا جس کے بارے شاید حکمرانوں کو خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس بار تاریخ میں پہلی بار ٹرپل ون بریگیڈ ان کو گھر بھیجنے یا گرفتار کرنے نہیں بلکہ ان کو بچانے کیلئے آئیگی۔ میرے خیال میں راحیل شریف کے اس عمل نے ثابت کر دیا کہ اب فوج وہ ادارہ نہیں رہا کہ جس کے ایجنڈے میں مارشل لگا کر ملک میں سیاست یا حکومت کرنا ہے۔ اس کا کریڈٹ بلاشبہ سپہ سالار کو ہی جاتا ہے کہ جس نے مواقع موجود ہوتے ہوئے کمزور حکومت کو گرانے یا ٹیک اوور کرنے کی بجائے سسٹم کو بچانے پر توجہ دی۔ دیکھتے ہیں جنرل راحیل شریف حکمرانوں اور جمہوریت پسندوں کے پسندیدہ جرنیل قرار پاتے ہیں کہ نہیں۔ اسلم بیگ کی طرح ان کو بھی تمغہ جمہوریت دیا جاتا ہے کہ نہیں۔ بہرحال ابھی تک کی صورتحال کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ راحیل شریف اور پاک فوج کی جانب سے جمہوریت اور سسٹم کو بچانے کے باوجود سیاسی قیادت سپہ سالار کی مقبولیت اور بعض دیگر معاملات پر فوجی قیادت کے کردار سے شاکی ہے۔ میاں نواز شریف سے لیکر مولانا فضل الرحمن ،محمود اچکزئی اور آصف علی زرداری تک سب کے سب فوج کے موجودہ جمہوریت پسند کردار کے باوجود بھی مطمئن اور پرسکون نظر نہیں آتے اس کی وجوہات کیا ہیں اس پر یقینا بات ہو سکتی ہے ۔ فوج موجودہ حالات میں کسی بڑے ایڈونچر میں کیوں نہیں جا سکتی اس پر بھی بحث ہو سکتی ہے لیکن آج کے کالم میں میری کوشش ہو گی کہ بہت سے دوستوں کی خواہشوں ، منتوں ، سماجتوں اور باقاعدہ ترلوں کے باوجود جنرل راحیل شریف عزت کے ساتھ رخصت ہو کر ملکی تاریخ میں ایک نئی خوبصورت راویت پیدا کرنے جا رہے ہیں اسی پر ہی بات کی جائے ۔اس دوران ہم یہ بھی سنتے رہے کہ میاں نواز شریف نئے آرمی چیف کا اعلان قبل از وقت کر کے ایک نئی صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں مگر نواز شریف بھی ماضی کی نسبت اس بار کافی بہتر انداز میں بڑے صبر اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ کمان کی تبدیلی کے دنوں میں بہت سے اندرونی اور بیرو نی سازشی متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس لئے سیاسی قیادت کا تدبر کا مظاہرہ کرنا اشد ضروری تھا لیکن ایک بات جس سے ملک و قوم کے خیر خواہوں کے دل دکھے ہیں وہ آصف علی زرداری کے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی ٹائمنگ کے موقع پر ایک طنزیہ بیان ہے جس میں انہوں نے وطن واپسی کا عندیہ بھی دیا ہے مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ آصف علی زرداری نے بیرون ملک جانے سے قبل آرمی کیلئے دھمکی آمیز بیان اور اب دوسرا بیان کس کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ راحیل شریف کے جانے سے بھی آصف علی زرداری کیلئے بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ شاید فوج کچھ معاملات میں بطور ادارہ کچھ فیصلے کر چکی ہے۔ اس لئے پاکستان میں بہت سے ایسے حضرات جنہوں نے ماضی میں دل کھول کر لوٹ مار کی ہے یا پھر ریاست کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ان کے ساتھ مستقبل میں بھی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ آج جب ہم جنرل راحیل شریف کو رخصت ہوتے وقت خراج تحسین پیش کر رہے ہیں تو ایسے وقت میں اس حوالے سے بھی تجزیہ کرنے میں یا سوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جب راحیل شریف اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے رخصت ہو جائیں گے جب ان کی جگہ ایک اور جرنیل سپاہ کی کمانڈ سنبھال چکے ہونگے تو اس کے بعد بھی کیا جنرل راحیل شریف کی مقبولیت کا گراف اسی طرح رہے گا کیونکہ ہماری قوم کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم ایک جذباتی قوم ثابت ہوئے ہیں ہم جس طرح ایک ہیرو کو سر پر اٹھاتے ہیں بالکل اسی طرح اس کو گرانے میں بھی دیر نہیں کرتے ۔بہرحال جنرل راحیل شریف کیلئے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی مقبولیت کو قائم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ جنرل راحیل شریف کو کچھ حضرات ریٹائرمنٹ کے بعد عملی سیاست میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اگر جنرل راحیل شریف سیاست میں آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پاکستانی سیاست میں ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی سیاست میں انٹری کم از کم 2018ءکے انتخابات میں نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک کا عرصہ بہرحال پورا کرنا ہو گا اور حکومت اس معاملے میں ان کو خصوصی رعایت دے کر کسی نئی مشکل میں نہیں پڑنا چاہے گی۔ اب جبکہ جنرل راحیل شریف کی رخصتی بھی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے اور ان کی رخصتی میں بھی صرف چند روز باقی ہیں تو ایسے وقت میں نئے آرمی چیف کو مقرر کرنے کے اختیار رکھنے والے میاں نواز شریف کی سیاسی بصیرت کا امتحان ایک بار پھر شروع ہو چکا ہے۔ ماضی کے تجربات ان کے سامنے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف سے لیکر جنرل (ر) ضیاءالحق مرحوم کو آرمی چیف بنانے والوں کا انجام بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں اور کم از کم 6 آرمی چیفس کے ساتھ ان کو کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے۔ میاں نواز شریف جو بھی فیصلہ کریں ان کی صوابدید ہے مگر آج تک کے فیصلوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو جو آرمی چیف حق داروں کی حق تلفی کر کے میرٹ کے برعکس تعینات کئے گئے انہوں نے ہی مارشل لگایا جن حکمرانوں نے ان کو تعینات کیا ان کو ہی بعد میں جیلوں میں بھیجا۔ زیڈ اے بھٹو کو تو پھانسی پر بھی چڑھا دیا گیا یہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے۔ اب مو¿رخ بے رحم نظروں سے ایک بار پھر موجودہ حکمران کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے ۔ کیا وہ اپنی پسند اور ناپسند پر جاتا ہے یا پھر میرٹ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ دوسری طرف آرمی چیف کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو اپنے پیش رو کی تعیناتی کیلئے سفارش کرتے وقت صرف اور صرف میرٹ کا خیال رکھیں گے۔ حکمران بھی اگر میرٹ کو فالو کریں تو اس فیصلے میں ایک اور خوبصورتی کااضافہ ہو جائیگا۔مگر واقفان حال کہتے ہیں کہ اس کا امکان کم ہے لیکن ہماری قوم نے ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو جنرل راحیل شریف کی بغیر کسی ایڈونچر کے باعزت رخصتی پر شدید ناراض ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کو قوم نے اتنی عزت دی مگر وہ چوروں ، ڈاکوﺅں اور ملک و قوم کو لوٹنے والوں کو نشان عبرت نہیں بنا سکے۔ ایسے دوستوں کی خواہش اور جذبات اپنی جگہ مگر کیایہ دوست ایسا کوئی آئینی راستہ بتا سکتے ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف پورے پاکستان کے مختلف چوکوں میں ان چوروں ، ڈاکوﺅں اور لٹیروں کو سرعام لٹکا دیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ایک باعزت خاندان سے تعلق رکھنے والے مقبول ترین آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ایسا مقبول ترین ہی فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔