اسد شفیق نے مشکل وکٹوں پر سکور کرنے کا گر سیکھ لیا

ہملٹن (ہاٹ لائن )قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق کا کہنا ہے کہ مشکل وکٹوں پر ٹھہرنے کے ساتھ ہی رنز اسکور کرنے کا سبق انہوں نے کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں سیکھ لیا ہے ،اگر کھلاڑی اسکورنگ میں روانی نہیں لاتے تو ایک جگہ کھڑے رہ جائیں گے جن کیلئے آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ نیوزی لینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ کے آغاز سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے ٹیسٹ میں تھوڑی سی مہم جوئی کے ساتھ ذہن کو بدلا جاتا تو معاملہ برعکس بھی ہو سکتا تھا۔اسد شفیق کے مطابق یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ ایسی وکٹوں پر قیام کے ساتھ ہی رنز بھی اسکور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مثبت اور جارحانہ کرکٹ کھیلے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں اور یہی کمی پہلے ٹیسٹ میں محسوس ہوئی۔ واضح رہے کہ پہلے ٹیسٹ میں سہیل خان نے 39 بالز پر 40 رنز بنائے تھے جو اس بات کی نشاندہی تھی کہ اسٹروک پلیئرز شاٹس کھیل کر بالرز کا ردھم خراب کر سکتے ہیں مگر پاکستانی بیٹسمین ایسا نہیں کر سکے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین کا کہنا تھا کہ ایسی مشکل وکٹوں پر گیند کو مسلسل بلاک کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا کیونکہ بالرز سیم اور سوئنگ کا سہارا لیتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ایک اچھی بال گرتے ہی کام تمام ہو جاتا ہے لہٰذا رنز اسکور کئے جائیں اس سے پہلے کہ کوئی اچھی بال جکڑ لے۔ سیڈن پارک کی وکٹ سے اسد شفیق کی اچھی یادیں وابستہ ہیں کیونکہ دو ہزار گیارہ کے کیوی ٹور پر انہوں نے یہاں 83 رنز بنا کر پاکستانی ٹیم کو فتح دلائی تھی حالانکہ وہ ان کی صرف دوسری ٹیسٹ اننگز تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اننگز اب بھی انہیں بخوبی یاد ہے کیونکہ انہوں نے بہت اچھی اور مثبت کرکٹ کھیلی تھی اور ایک مرتبہ پھر اسی گراو¿نڈ پر واپسی کا احساس بہت اچھا ہے جو بطور بیٹسمین ان کیلئے بہت زیادہ مددگار بھی ثابت ہوگا۔