عوام کو ملاوٹ سے پاک خالص دودھ کی فراہمی کیلئے اقدامات ضروری ہیں ، کانفرنس سے شرکاء کا خطاب

راولپنڈی(ہاٹ لائن ) محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ راولپنڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام حسین بھٹہ نے کہاہے کہ خالص دودھ کی عدم فراہمی اور جعلی اور خراب دودھ سے بڑھتی ہوئی بیماریاں ایک گھمبیرمسئلہ بنتاجارہا ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی بیماریاں ، بچوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ ، ذہنی اور جسمانی لاغرپن اور قد میں کمی بہت بڑ ا مسئلہ ہے، ہر شخص اپنے اور اپنوں کے لیے خالص دودھ لینا چاہتا ہے اور اس کی پیداواری قیمت بھی ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ لائیوسٹاک کی کوشش ہے کہ دودھ والے جانور رکھنے والے فارمرز صاف ستھرا دودھ پیدا کریں اور زمیندارسے دودھ خریدنے والے دودھی حضرات بر وقت دودھ کی سپلائی محفوظ طریقے سے کریں اور ملاوٹ یاکیمیکل سے پاک دودھ چلر ، سیل پوائنٹ یا گھروں تک بہم پہنچائیں۔ اسی طرح چلر سے دودھ حاصل کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں جو دودھ کی ترسیل میں ٹینکر استعمال کرتی ہیں جس چلر سے دودھ حاصل کرتی ہیں ان پر اپنی کمپنی اور ادارے کا نام واضح طور پر تحریر کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے “دودھ کانفرنس2016” سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد عوام الناس کو فریش /خالص دودھ کی غذائی اہمیت، ملاوٹ سے پاک خالص دودھ کی پہچان اور اسکے استعمال کی افادیت کے بارے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ کانفرنس کے مقر رین میں ڈائریکٹر پولٹری ریسرچ انسٹیٹیوٹ ،راولپنڈی ڈاکٹر عبدالرحمان، ڈسٹرکٹ آفیسر لائیوسٹاک ڈاکٹر ارشد لطیف ارشد ، اسسٹنٹ پروفیسر فوڈ اینڈ ٹیکنالوجی، ڈیپارٹمنٹ بارانی یونیورسٹی راولپنڈیِ ، ڈاکٹر محمد فاروق اقبال، اور محکمہ کے دیگرافسران شامل تھے۔ کانفرنس کے شرکاء میں مویشی پال حضرات ، محکمہ کے افسران و عملہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر مقررین نے کانفرنس کے شرکاء کو دودھ کی ترسیل کے نظام، اس کی غذائی اہمیت ،دودھ میں ہونے والی ملاوٹوں اور ان کے تشخیص کے طریقہ کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کی۔کانفرنس کے اختتام پر ماہرین نے مویشی پال حضرات سے دودھ کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق امور پر تجاویز اور اُن کے سوالات کے مفصل جوابات دیئے۔