برطانوی خاتون پرندے پالنے پر پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا

لندن(ہاٹ لائن) اگر آپ کو بھی پرندوں سے پیار ہے تو اپنی اس عادت کو بدل لیں یا پھر انہیں پالتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیں کیونکہ ان کی وجہ سے آپ کے پھیپھڑے ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ایسا ہی کچھ 61سالہ اس خاتون کے ساتھ ہوا جو گذشتہ 20سال سے پرندے پال رہی تھی اور ایک دن اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی جہاں اسے بتایا گیا کہ اس کے پھیپھڑے ناکارہ ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے شہر ساﺅتھ پورٹ کی نرس لائن پورٹر نے گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف طرح کے پرندے اور طوطے پال رکھے تھے اور ہر سال 160پرندوں کی افزائش کرتی تھی لیکن سال 2012کے ایک دن اسے سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگی اور وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔اس کا کہنا ہے کہ اسے سانس لینے میں اس قدر مشکل تھی کہ اس کے بیٹے جان کا کہنا ہے کہ ”میرے ہونٹ نیلے اور چہرہ زرد ہوچکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ میں آخری سانسیں لے رہی ہوں۔“اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے بہت مشکل سے اس کی جان بچائی اور اگلے دن جب ڈاکٹر اس کے پاس آیا تو اسے بتایا کہ جو لوگ پرندے رکھتے ہیں انہیں یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔”پروں اور زمین کی گرد میرے پھیپھڑوں میں جاتی رہی اور ایک پھیپھڑے کے ایکسرے میں معلوم ہوا کہ وہ بالکل ناکارہ ہوچکا ہے۔“اس کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے اسے Pigeon Fancier’s Lung نامی بیماری لاحق ہوگئی ، یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں پھیپھڑے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔”ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ اگر میں نے اپنی پرندے پالنے کی عادت ترک نہ کی تو چند مہینوں میں میری موت یقینی ہوگی۔“اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ پرندوں کے پروں اور اردگرد کی گرد جب پھیپھڑوں میں جاتی ہے تووہ آہستہ آہستہ ناکارہ ہونے لگتے ہیں اور ایسا ہی کچھ Pigeon Fancier’s Lungنامی بیماری میں بھی ہوتا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ پرندوں کے پاس جائیں تو اپنے منہ کو ڈھانپ کررکھیں تاکہ آپ کے پھیپھڑوں میں گرد نہ جائے۔