آئسکریم کھائیں، زہین بن جائیں

ٹوکیو (ہاٹ لائن) ناشتے میں آئسکریم کھانا کسی فرد کو ذہنی طور پر چوکنا اور دماغی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا، ٹوکیو کی کیورن یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران رضاکاروں کو جاگنے کے فوری بعد آئسکریم کھلائی گئی جس کے بعد ایک کمپیوٹر پر ان کی ذہنی آزمائش کی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آئسکریم سے محروم رہنے والے گروپ کے برعکس اس سوغات سے لطف اندوز ہونے والے افراد کا ردعمل کا وقت تیز اور معلومات کا تجزیہ کرنے کی اہلیت بہتر ہوگئی۔ محققین نے خیال کیا کہ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ آئسکریم کھانے سے جسم کے اندر آنے والے اثرات کی وجہ ہو اور رضاکاروں کو آئسکریم کی جگہ ٹھنڈا پانی پلا کر یہی تجربہ دوبارہ کیا گیا۔ تاہم ان میں ویسی بہتری نظر نہیں آئی جو کہ آئسکریم کھانے کے نتیجے میں نظر آئی تھی۔محققین ابھی تک یہ جاننے میں قاصر رہے ہیں کہ آئسکریم کی وجہ سے دماغی کارکردگی میں بہتری کیوں آتی ہے تاہم یہ واضح ہے کہ ناشتے میں اس کا استعمال لوگوں کو اسمارٹ بناتا ہے۔
ان کے خیال میں آئسکریم کو لوگ ایسی سوغات سمجھتے ہیں جو مثبت جذبات کو تحریک دیتی ہے اور توانائی بڑھاتی ہے۔
اس سے قبل 2005 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آئسکریم کھانے سے دماغ کے وہ حصے حرکت میں آتے ہیں جو کسی انعام ملنے یا پسندیدہ گانے پر حرکت میں آتے ہیں۔