اٹلی میں باپ کے نام پر ہی بچے کا خاندانی نام رکھنا غیرقانونی قرار

روم ( ہاٹ لائن) اٹلی کی آئینی عدالت نے 10 سال سے جاری ایک مقدمے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کا خاندانی نام باپ کے نام پر رکھنے کا قانون غلط ہے جسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔
یہ قانون اٹلی میں رومن سلطنت کے زمانے سے رائج ہے اور کم و بیش 2 ہزار سال پرانا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے شدید تنقید کی زد میں بھی ہے کیونکہ اس کے تحت اگر کسی بچے کے باپ کا نام معلوم ہو تو اس کا خاندانی نام صرف اور صرف اس کے باپ کے نام ہی پر رکھا جاسکتا ہے۔
2006 میں اطالوی پارلیمنٹ کی خواتین ارکان اور حقوقِ نسواں کے علمبردار حلقوں کی جانب سے اٹلی کی آئینی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ قانون خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ اطالوی آئین کے تحت فراہم کیے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ عدالت سے یہ قانون ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاکہ اگر کوئی جوڑا یہ چاہے کہ اپنے بچے کا خاندانی نام والد کے بجائے والدہ کے نام پر رکھے تو اسے قانوناً ایسا کرنے کی اجازت ہو۔
اٹلی کا قدامت پسند طبقہ اور پارلیمان میں موجود مردوں کی اکثریت دونوں ہی اس قانون کے حق میں تھے جس کی بناء پر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا۔ اسی دوران برازیل اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے بھی درخواست دائر کی کہ وہ اطالوی قانون کے برخلاف اپنے بچے کا خاندانی نام ایسا رکھنا چاہتے ہیں جو اس کے والد اور والدہ دونوں کے ناموں کا مرکب ہو لیکن اٹلی کی حکومت نے یہ درخواست مسترد کردی۔ اس پر وہ جوڑا انسانی حقوق کی یورپی عدالت چلا گیا جس نے 2014 میں اس قانون کو اطالوی آئین میں عورت اور مرد کی برابری والے اصول کے منافی قرار دیتے ہوئے اس جوڑے کے حق میں فیصلہ سنادیا۔
اس فیصلے سے اٹلی میں جاری کوششوں میں بھی نئی جان پڑ گئی اور اطالوی ایوانِ زیریں میں یہ قانون تبدیل کرنے کے لیے ایک ترمیمی بل منظور کرلیا گیا لیکن ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں قدامت پرست مردوں نے اس بل کی حتمی منظوری کو آج تک روکا ہوا ہے۔
حالیہ عدالتی فیصلہ انہیں یہ بل منظور کرنے اور 2 ہزار سال پرانے قانون کو تبدیل کرنے پر مجبور بھی کردے گا۔ اٹلی کی رکنِ پارلیمنٹ فیبریزیا جولیانی نے آئینی عدالت کے اس فیصلے کو ’’اہم ترین‘‘ قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ اب اطالوی ایوانِ بالا کے پاس اس قانون کو تبدیل نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں رہا۔