پاکستان میں خواجہ سراﺅں کیلئے مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد(ہاٹ لائن) خواجہ سراﺅں کے حقوق کیلئے سرگرم تنظیم نے اسلام آباد کے مضافات میں خواجہ سراﺅں کیلئے مسجد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا لیاہے جس میں صنفی شناخت یا جنسی رجحان سے قطع انظرتمام شہری نماز ادا کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق خواجہ سراﺅں کی خصوصی تنظیم ’شی میل ایسوسی ایشن فار فنڈامینٹل رائیٹس‘ کے بانی ندیم کشش نے کہاہے کہ اس مسجد کو بنانے کے پیچھے اصل مقصد ہمارے معاشرے کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ خواجہ سراء بھی مسلمان ہیں اور نماز کی ادائیگی، قرآن پاک کی تلاوت اور قرآن کی تعلیم دینا ان کا بھی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق صرف اسلام آباد میں 2700 کے قریب خواجہ سرا رہتے ہیں جبکہ حکام کے پا س تقریبا 2500 رجسٹرڈ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں خواجہ سراﺅں کو سماجی اور معاشرتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے جس کی وجہ سے یہ تشدد اور قتل جیسے جرائم کاہدف بنتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ خواجہ سراﺅ کیلئے بنائی جانے والی اس مسجد میں ایک ہزار سے زائد افراد بیک وقت نماز کی ادائیگی کر سکیں گے، مسجد ہر کسی شہری کیلئے کھلی رہے گی اور جس کا بھی دل چاہیے اس میں آ کر نماز کی ادائیگی کر سکتاہے۔ ندیم کشش کا کہناتھاکہ مسجد میں مدرسہ بھی بنایا جائے گا جس میں قرآن پاک پڑھنا بھی سکھایا جائے گا۔
ان کا کہناتھا کہ مسجد کیلئے زمین پہلے ہی عطیہ کر دی گئی ہے جبکہ تعمیر کیلئے سات لاکھ روپے بھی جمع کر لیے گئے ہیں۔سب سے بڑی اسلامی ملک انڈونیشیاءکے شہر ’یوگیاکارتا‘ میں خواجہ سراﺅں کیلئے بنائی جانے والی مسجد دنیا کی پہلی مسجد تصور کی جاتی ہے۔