موصل کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع

عراق ( ہاٹ لائن )عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے کنٹرول سے عراق کے شہر موصل کوچھڑوانے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
موصل کو دولت اسلامیہ کے کنٹرول سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے کنٹرول سے عراق کے شہر موصل کوچھڑوانے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔موصل کو دولت اسلامیہ کے کنٹرول سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی۔یاد رہے کہ موصل پر دولت اسلامیہ نے جون 2014 میں قبضہ کیا تھا۔
عراقی حکومت اور امریکہ کی قیادت میں دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار اتحادی فوج کے حملے کا ایک عرصے سے انتظار تھا۔اقوام متحدہ نے اس علاقے میں 15 لاکھ شہریوں کی سکیورٹی کے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
آپریشن کےاعلان کے بعد موصل کے اطراف میں اکا دکا توپوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ نے موصل میں لڑائی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس سے شہریوں پر بہت بڑے پیمانے پر اثر پڑے گا اور ایک اندازے کے مطابق موصل اور اس کے گردو نواح میں رہنے والے 12 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔
عراق اور شام کے مختلف علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول والے علاقوں میں موصل سب سے بڑا شہر ہے جہاں شدت پسندوں کا قبضہ ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’فتح کا وقت آ گیا ہے اور موصل کو آزاد کرانے کا وقت آ گیا ہے۔ آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آپریشن کا آغاز ہو گیا ہے تاکہ آپ کو داعش کے تشدد اور دہشت گردی سے آزاد کرایا جا سکے۔‘
‘انشاءاللہ ہم لوگ موصل میں ملیں گے اور دولت اسلامیہ سے آپ کی نجات کا جشن منائیں گے تاکہ ہم لوگ ایک بار پھر سے مل جل کر ساتھ رہ سکیں۔ ہم اپنے محبوب شہر موصل کی تعمیر نو کے لیے داعش کو تمام مذاہب مل کر شکست دیں گے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ موصل میں جب معرکہ شروع ہوگا تو شہر کے جنوب سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے اور مشرق سے تقریباً ڈھائی لاکھ اور شمالی مغرب سے ایک لاکھ افراد نقل مکانی کریں گے۔