یورپی ملک اب ہمارے ایٹمی میزائلوں کے نشانے پر ہے‘ روس کے اعلان نے کھلبلی مچادی

ماسکو(ہاٹ لائن) امریکہ روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے پولینڈاور دیگر ہمسایہ یورپی ممالک میں اپنی افواج تعینات اور میزائل سسٹم نصب کر رہا ہے۔ ناروے میں بھی حال ہی میں اس نے اپنی فوج تعینات کردی تھی جس پر اب روس کی طرف سے ناروے کو انتہائی سنگین نتائج کی دھمکی دے دی گئی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق روس کے سینئر سیاستدان فرینٹس کلنٹسیوک نے ناروے کو خبردار کیا ہے کہ ”ناروے نے اپنے ملک میں امریکہ کو فوج تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد اب وہ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کا نشانہ بن سکتا ہے۔“روس کے ٹی وی 2چینل سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی دفاع و سکیورٹی کمیٹی کے نائب چیئرمین فرینٹس کا کہنا تھا کہ ”روس کے خلاف امریکہ فوجی اقدامات کر رہا ہے اور ناروے نے اس کی مدد کرکے ایٹمی تصادم کی راہ ہموار کر دی ہے۔اپنے ملک میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دینا ناروے اور اس کے شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو گا۔“فرینٹس کا مزید کہنا تھا کہ ”اس سے قبل ناروے کبھی بھی ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے ٹارگٹس کی فہرست میں شامل نہیں تھا لیکن اب اس کے اس اقدام کے باعث وہ بھی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جس کے ناروے کے شہریوں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔“ فرینٹس نے کہا کہ ”روس کے خلاف امریکہ کی طرف سے فوجی خطرہ بالکل واضح ہے اور اس پر ہمارا ردعمل ضروری ہے اور ہم ردعمل ظاہر کرنے کے لیے ضروری طاقت اور سازوسامان بھی رکھتے ہیں۔یہ کوئی خالی دھمکی نہیں، میں حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ اب ناروے کو روس کے ایٹمی حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“مزید براں روس میں شام کی صورتحال اور تیسری عالمی جنگ کے خطرے کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے جس میں 48فیصد روسی شہریوں کا خیال ہے کہ روس میں دگرگوں ہوتے حالات تیسری عالمی جنگ پر منتج ہوسکتے ہیں۔ 52فیصد شہریوں نے شام میں روسی فضائیہ کی بمباری کی حمایت کی اور 49فیصد نے بمباری جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔