8مسلمانوں کو شہادت، ہندوستان کے شاہی امام پھٹ پڑے

نئی دہلی(ہاٹ لائن)بھارت میں گذشتہ دنوں کالعدم تنظیم ’’سیمی‘‘ کے 8قیدیوں کو جیل سے نکال کر’’ جعلی پولیس مقابلے ‘‘ میں مارے جانے کے خلاف پورے ہندوستان مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ، ان 8مسلمان نوجوانوں کی شہادت نے ہندوستان کے شاہی امام سید احمد بخاری کو بھی سخت مشتعل کر دیا ہے ،انہوں نے 8نوجوانوں کی شہادت پر بھارتی سیکیورٹی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور نام نہاد بھارتی جمہوریت اور یہاں اقلیتیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کئی سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں ۔ بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق ہندوستان کے شاہی امام سید احمد بخاری کالعدم مسلم تنظیم ’’سیمی ‘‘ کے 8نوجوان قیدیوں کے’’ مبینہ اِن کاؤنٹر ‘‘ کو شدید ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھوپال کے محافظو ں نے اقلیتی فرقے کے 8افراد کو ماورائے عدالت قتل کر کے حساس دل رکھنے والے تمام انسانوں کو شدید تکلیف پہنچائی ہے،پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف شدید اشتعال انگیزی کاماحول بنایا جارہا ہے، ملک کا سماجی ، اقتصادی اورسیاسی نظام ایک زبردست کشمکش اور اتھل پتھل سے دوچارہے،آج انڈیا عجیب نازک دورسے گزررہاہے،ہرفرقے اورطبقے کے لوگ ایک عجیب وغریب ذہنی الجھن میں مبتلا ہیں،ایسامحسوس ہوتاہے کہ مزید کچھ ہونے والاہے،مگریہ نہیں معلوم کہ جوہونے والاہے وہ کیاہوگا؟ملک ایسے لمحات سے گزررہاہے جن لمحات میں بڑی بڑی تبدیلیاں آتی ہیں اورحالات ایساپلٹاکھاتے ہیں کہ زندگی کے دھارے بدل جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہندستانی جمہوریت کے سامنے ملک کے تمام باشندوں کے ساتھ برابری کے سلوک کی پالیسی اپنے ، شرافت اور تہذیبی اقدار اور امن و امان کے تعلق سے اہم سوالات کھڑے ہوگئے ہیں، لاقانونیت، تشدد اور بربریت کی قوتوں کے سامنے سب نے سرجھکادیاہے، ملک کی زمین بے قصورافرادکے خون سے رنگی جارہی ہے،ایسے حالات میں مہذب ملک کے شہری کی حیثیت سے ہماراکیاکردار ہو ؟اسکے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔