امریکہ میں خانہ جنگی کی تیاری عروج پر،فیصلہ کن لڑائی کیلئے شہریوں نے ہتھیار جمع کرنا شروع کردئیے

نیویارک(ہاٹ لائن) آخر وہ وقت آ گیا ہے جس کا بہت سے لوگوں کو شدت سے انتظار تھا کیونکہ امریکہ میں خانہ جنگی کی تیاری عروج پر پہنچ چکی ہے اور لوگوں نے اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست جارجیا کے دیہی علاقے تھری پرسنٹ سکیورٹی فورس نامی ملیشیا کے جنگجو اسلحہ چلانے اور دست بدست لڑائی کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں کسی بھی وقت ریلی نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس ملیشیا کو ”ٹرمپ آرمی“ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ جنگجو گروپ امریکی صدارتی انتخابات پر بدامنی پھیلانے کی پوری طرح تیاری کرنے میں مصروف ہے۔ اس گروپ کا نام اس جنگجو گروپ کی مناسب سے رکھا گیا ہے جو برطانیہ کے خلاف امریکہ کی آزادی کی جنگ لڑتا رہا تھا۔ اس گروپ کی تعداد بھی پوری امریکی آبادی کا تین فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق تھری پرسنٹ فورس ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی مہم میں کیے گئے وعدوں کی وجہ سے ان کی حمایت میں سامنے آ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے، غیرقانونی مقیم افراد کو ڈی پورٹ کرنے اور میکسیکو کے بارڈر پر دیوار بنانے جیسے وعدے اس گروپ کی تحریک کی وجہ ہیں۔
a2
ممکنہ طور پر یہ گروپ انتخابات سے قبل واشنگٹن میں مارچ کرے گا۔ سدرن پاورٹی لاءسنٹر کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت 276مسلح گروپ متحرک ہیں۔ 2008ءمیں ان کی تعداد صرف 42تھی۔ رپورٹ کے مطابق تھری پرسنٹ فورس ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی مہم میں کیے گئے وعدوں کی وجہ سے ان کی حمایت میں سامنے آ رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے، غیرقانونی مقیم افراد کو ڈی پورٹ کرنے اور میکسیکو کے بارڈر پر دیوار بنانے جیسے وعدے اس گروپ کی تحریک کی وجہ ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ گروپ انتخابات سے قبل واشنگٹن میں مارچ کرے گا۔ سدرن پاورٹی لاءسنٹر کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں اس وقت 276مسلح گروپ متحرک ہیں۔ 2008ءمیں ان کی تعداد صرف 42تھی۔میل آن لائن کے مطابق امریکہ کا8نومبر کو ہونے والا صدارتی انتخاب جس قدر متنازعہ، اختلاف رائے کا حامل اور الزام تراشی سے بھرا ہے اس کی مثال امریکہ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایسے میں یہ مسلح گروپ الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہونے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ اگر ہیلری کلنٹن جیت جاتی ہے تو اس کے بعد ملک میں بدامنی پھیلانا بھی ان کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ان گروپوں کا کہنا ہے کہ ”ہم پہلی گولی نہیں چلائیں گے لیکن اپنی بندوقیں گھر بھول کر بھی نہیں آئیں گے۔“ان میں سے ایک ”دی اوتھ کیپرز“ نامی گروپ نے اپنے اراکین کو ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ وہ ووٹنگ کے مقامات کی نگرانی کی تیاری کریں تاکہ ہیلری کلنٹن اور اس کے حامی دھاندلی نہ کر سکیں۔