بھارتی انتہاپسندی، پاکستانی پرچم میں لپٹے کشمیری بچے کے جنازے پر دھاوا بول دیا

سری نگر (ہاٹ لائن ) مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 4 ماہ سے زائد عرصے سے بھارتی بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 110 سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور آج تازہ ترین واقعہ میں قابض فوج نے پاکستانی پرچم میں لپٹے بچے کے جنازے میں شریک افراد پر دھاوا بول کر متعدد افراد کو زخمی کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر میں بھارتی فوج کی درندگی کی بھینٹ چڑھنے والے 16 سالہ کشمیری بچے قیصر صوفی کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنانے کے لئے لے جایا جا رہا تھا کہ بھارتی فورسز نے نماز جنازہ میں شریک افراد پر شیلنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین کی جانب سے کشمیر بنے گا پاکستان اور پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔یاد رہے کہ بھارتی فورسز نے شالیمار کے رہائشی قیصر کو 27 اکتوبر کو اس کے گھر کے پاس سے اٹھایا تھا اور ایک روز بعد تشویشناک حالت میں اسے پھینک دیا تھا، قیصر کو سری نگر کے سوریٰ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گزشتہ روز دم توڑ گیا۔
واضح رہے کہ بھارت نے رواں برس جولائی میں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کو فوجی طاقت کے ذریعے کچلنے کے لئے گزشتہ 4 ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے۔