وہ ملک جہاں چینیوں کے لئے بیویاں لینے کیلئے سیل لگادی گئی

بیجنگ(ہاٹ لائن) چین میں طویل عرصے تک ”ایک بچہ“پالیسی لاگو رہنے کے باعث صنفی عدم توازن گھمبیر صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ چونکہ والدین کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت تھی لہٰذا وہ بیٹے کو ترجیح دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت چین میں خواتین کی نسبت مردوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اب چین میں کنوارے مردوں کی شرح بہت بڑھ چکی ہے کیونکہ شادی کے لیے خواتین ہی دستیاب نہیں۔ چنانچہ وہ ایک عدد دلہن کے حصول کے لیے دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ روس میں صنفی توازن کی صورتحال چین کے برعکس ہے۔ وہاں خواتین تعداد میں زیادہ ہیں۔ چنانچہ چینی مردوں کی بڑی تعداد روس سے بیویاں لانے کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس حوالے سے روسی خطہ سائبیریا ان کا خاص ہدف ہے جہاں او ایس ڈی سنٹر نامی ایک میرج ایجنسی کام کر رہی ہے جو چینی مردوں اور روسی خواتین کی شادیاں کرواتی ہے۔ اس ایجنسی کے سائبیریا کے کئی شہروں میں دفاتر ہیں۔ جو چینی مردوں کے وفد سائبیریا بلوا کر ان کی شادی کی خواہش مند روسی خواتین سے ملاقات کرواتی ہے۔ زیرنظر تصویر میں ایک ایسی ہی ملاقات ہو رہی ہے جس میں چینی مرد مترجم کے ذریعے شادی کی متمنی سائبیرین خواتین سے متعارف ہو رہے ہیںرپورٹ کے مطابق چینی مردوں کے اس وفد میں 25سے 46سال کے مرد شامل تھے جن کا تعلق شنگھائی، بیجنگ، ہانگ کانگ، شین ژن و دیگر چینی شہروں سے تھا۔ انہوں نے روسی خواتین سے شادی اور ان کے خاندان کے متعلق گفتگو کی۔ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے او ایس ڈی سنٹر کی سربراہ علینا سووروا کا کہنا تھا کہ ”چین میں خواتین کی بہت کمی ہے اور روس میں خواتین مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ چینی مردوں کے لیے روسی خواتین کسی تحفے سے کم نہیں۔ چین سے آنے والے مرد ان سے شادی کی غرض سے آتے ہیں اور وہ سنجیدہ تعلق کے لیے پرعزم ہوتے ہیں۔ اس ملاقات میں جن روسی خواتین کو ہم نے بلایا ان تمام کی عمر 35سال سے کم تھی۔ مرد عموماً چینی مرد گوری رنگت اور نیلی آنکھوں والی لڑکیوں کو پسند کرتے ہیں لیکن گزشتہ سال چینی مردوں نے سانولی اور بھوری آنکھوں والی روسی لڑکیوں کو زیادہ پسند کیا اور ان سے شادیاں کیں۔چینی مرد بہت اچھے ہوتے ہیں اور ان کا خواتین کے ساتھ رویہ لائق تحسین ہوتا ہے۔ وہ خواتین کے ساتھ بہت عزت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ وہ جدت پسند،فطری اور پرسکون طبیعت کی مالک اور ہنستی مسکراتی خواتین کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو مردوں کے ساتھ مسابقت کی خواہش مند نہ ہوں۔“