کشمیر میں بھارتی مظالم نہ رک سکے ، مزید 3 کشمیری شہید

سرینگر (ہاٹ لائن ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بارہمولہ میں تین اورکشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے اوڑی میں ٹورنارامپور کے مقام پر محاصرے اور تلاشی کی ایک پر تشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی فوج کا ایک لیفٹنٹ کرنل ارون کمار زخمی ہو گیاتھا ۔ علاقے میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان عسکریت پسند تھے۔ دریں اثنا کٹھ پتلی انتظامیہ نے جمعہ کو یوم استقلال کے سلسلے میں جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ روکنے کے لیے سرینگر کے مختلف علاقوں میں کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کر دیں۔ حریت رہنماسید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق ،محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنما مسلسل گھروں ، تھانوں اور جیلوں میں نظر بند ہیں۔ قابض بھارتی فورسزکے ہاتھوں بے گناہ شہریوںکے قتل اور دیگر مظالم کے خلاف جمعہ کو مسلسل 127ویں روز بھی مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال رہی جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر رہے۔ ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل متحدہ مزاحمتی قیادت نے دے رکھی ہے۔ یاد رہے کہ مقبوضہ علاقے میںجاری انتفادہ کے دوران اب تک ایک سو سے زائد شہری شہید جبکہ17 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ انتفادہ رواں برس آٹھ جولائی کو ممتاز مجاہد کمانڈر برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہوا تھا۔ ادھر بانڈی پورہ ، بارہمولہ اور دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں پر امن مطاہرین پر بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد سے بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔