اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان، یہودی حواس باختہ

اسرائیلی پارلیمنٹ کے مسلم رکن نے مسجدوں میں اذان پر پابندی کے مجوزہ بل کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں ہی اذان دے کر یہودیوں کو حواس باختہ کر دیا۔
مقبوضہ بیت المقدس(ہاٹ لائن ) غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان دینے کی پابندی کا قانون تو نہ بن سکا البتہ ووٹنگ کے دوران ایک مسلمان رکن نے اذان دے کر یہودیوں کو حواس باختہ کر دیا۔ اسرائیلی کابینہ کی طرف سے لاؤڈ سپیکروں پر اذان دینے پر پابندی کا قانون منظور کیے جانے کے بعد اسے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے مسلمان رکن احمد التیبی نے حکومت کی جانب سے اذان پر پابندی کے مجوزہ بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودی لابی اسلام فوبیا کا شکار ہے۔ بل کی منظوری اسرائیلی فاشسٹ معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔
اس دوران ایک اور مسلم رکن طالب ابو عرار نے پارلیمنٹ میں اذان دینا شروع کر دی تو یہودی اراکین پارلیمنٹ نے انہیں روکنے کے لئے شور شرابہ شروع کر دیا لیکن اس کے باوجود مسلم رکن نے اذان مکمل کی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مسودے میں سفارش کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ تمام مساجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کی جائے۔ تاہم اسرائیلی وزیر داخلہ نے موقف اختیار کیا کہ اگر فلسطین کی مساجد میں لاؤڈ سپیکروں پر اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی تو اس کے نتیجے میں یہودیوں کے مذہبی شعائر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے یہودی مذہبی اعلانات”وسل“ بھی اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں۔ (ن ی)