atm-and-banks

اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہرلوگوں کی لمبی قطاریں، رقم کی قلت یانئے نوٹوں کا حصول،متعدد افراد ہلاک

نئی دہلی(ہاٹ لائن)بھارت میں 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعداے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں لوگ ہر روز کھڑے ہوجاتے ہیں. لیکن ان کی پریشانیاں کم ہوتی نہیں ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رقم کی قلت کے سبب یا پھرنئے نوٹوں کے حصول کے چکر میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ریاست جھارکھنڈ میں گھاٹ شلا کے ہیرا گنج کے رہائشی شنکر نماتا کی بیٹی نندنی کا پرانے نوٹوں کی وجہ سے وقت پر علاج نہ ہو سکا.جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔نندنی ملیریا میں مبتلاتھیں اورگھر میں صرف 500 کے کچھ پرانے نوٹ ہی بچے تھے۔ان کے لواحقین نوٹ بدلوانے کے لیے چکر لگاتے رہے .لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔نندنی کے گھر والے پیسے نکوالنے گغے تھے لیکن واپس آئے تو وہ انتقال کر چکی تھیں۔نندنی کے پھوپھا اتپل وشواس نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے نندنی کو فوری طور پر جمشید پور کے بڑے ہسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ نندنی کے والد شنکر نماتا معذور ہیں۔ ‘وہ کہیں آ جا نہیں سکتے۔ لہذا وہ اور ان کے ایک اور رشتے دار دو الگ الگ اے ٹی ایم کی لائن میں لگے تھے۔وہاں کافی بھیڑ تھی۔ ایسے میں پیسے نکالنے میں بہت دیر ہو گئی۔وہ اے ٹی ایم سے دو ہزار روپے لے کر نرسنگ ہوم تک پہنچتے کہ نندنی کی موت ہوچکی تھیں۔’ہسپتال کے آپریٹر رنجیت ٹھاکر کا کہنا ہے کہ نندنی کو فوری طور پر خون لگانے کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے ان کے رشتے دار پیسے نکالنے گئے تھے۔اس درمیان مریض کی حالت کافی بگڑ گئی اور انھیں بچایا نہیں جا سکا۔ادھر ضلع پلامو کے محمد گنج میں رام چندر پاسوان نامی ایک بزرگ شخص اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ اپنے پرانے نوٹ تبدیل کروانے کے لیے بینک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کے بیٹے ارجن پاسوان نے بتایا کہ بینک میں داخل ہوتے وقت دھکم پیل کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پیسے نکالنے کے چکر میں دوسرے لوگ انہیں چلتے ہوئے بینک میں گھسنے لگے۔ ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔(ا ن)