شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں کو ’جنگی اقدام‘ قرار دیدیا

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے ’جنگی اقدام‘ قرار دیدیا۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کہنے پر سلامتی کونسل کی جانب سے لگائی گئی نئی پابندیاں پیانگ یانگ کی خودمختاری کے خلاف اور جنگی اقدام ہیں جن سے کورین جزیرے اور خطے میں امن متاثر ہو گا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیاں شمالی کوریا کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے مترادف ہیں۔

پیانگ یانگ کی جانب سے مزید کہا گیا کہ اگر امریکا محفوظ طریقے سے رہنا چاہتا ہے تو اسے شمالی کوریا کے حوالے سے اپنی غاصبانہ پالیسیاں بند کرنا ہوں گی، اسے شمالی کوریا جیسے جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک سے سیکھنا چاہیے، جن ممالک نے ان پابندیوں کی حمایت کی ہے انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ یہ امریکا کی خام خیالی ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود جو جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں ہم اس سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت پیانگ یانگ کی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں 90 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ شمالی کوریا کی مصنوعات درآمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل سے منظوری لینا بھی ضروری ہو گا۔