غیر ملکی کوہ پیماؤں پر ماؤنٹ ایورسٹ اکیلے سر کرنے پر پابندی

نیپال نے کوہ پیمائی میں حادثات کو کم کرنے کے لیے ماؤنٹ ایورسٹ سمیت دیگر چوٹیوں پر کوہ پیماؤں کے اکیلے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نیپال کی جانب سے نئے قواعد کے تحت معذور اور نابینا کوہ پیماؤں کو بھی پہاڑ سر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک کہ ان کے پاس میڈیکل سرٹیفیکیٹ نہیں ہو گا۔

محکمہ سیاحت کے ایک اہلکار نے کہا کہ قواعد میں تبدیلی کوہ پیمائی کو محفوظ بنانے اور اموات میں کمی کے لیے کی گئی ہے۔

رواں سال سب سے زیادہ کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم اس بری تعداد کے باعث حادثات میں بھی اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

نیپال کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال کوہ پیمائی میں ہونے والی اموات کی تعداد چھ ہے۔ اس میں 85 سالہ بہادر شیرچن بھی شامل ہیں جنھوں نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے ضعیف ترین شخص کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کرنے کی کی کوشش کی تھی۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب ہی واقع ایک پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں سوئس کوہ پیما جن کو سوئس مشین کا نام دیا گیا تھا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھےگ وہ یہ پہاڑ اکیلے سر کرنے کی کوشش میں تھے۔
نیپال کی جانب سے نئے قواعد میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی کوہ پیما کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقامی گائیڈ حاصل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اس نئے قانون سے شرپا کے لیے روزگار میں اضافہ ہو گا۔

چند ناقدین نے نیپالی حکومت کی جانب سے معذور اور نابینا کوہ پیماوں پر پابندی پر تنقید کی ہے۔ تاہم بعد میں حکومت نے وضاحت کی کہ ایسے کوہ پیماؤں کے لیے میڈیکل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا لازم ہو گا۔

فیس بک پر کوہ پیما ہری بدھا جن کی دونوں ٹانگیں افغانستان میں تعیناتی کے دوران ضائع ہو گئی تھیں نے نئے قواعد کو ناانصافی اور امتیازی ہے۔

’نیپالی کابینہ کیا فیصلہ کرتی ہے اس سے قطع نظر میں ایورسٹ کو سر کروں گا۔ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ 1920 سے ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش میں 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں 1980 کے بعد ہوئی ہیں۔

ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کی ہلاکتوں کی کئی وجوہات ہیں۔

ہمالیہ ڈیٹا بیس نے 2015 میں بی بی سی کو جو اعداد و شمار دیے تھے ان کے مطابق 29 فیصد کوہ پیما برفانی تودوں کے باعث جبکہ 23 فیصد پاڑ سے گرنے کے باعث ہلاک ہوئے۔