ٹرمپ کا متنازع فیصلہ: امریکا میں متعین فلسطینی سفیر کو وطن واپس بلالیا گیا


فلسطین نے امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے پیش نظر امریکا میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ انہوں نے امریکا کے متنازع فیصلے کے بعد امریکا میں موجود اپنے سفیر کو وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجسنی ’’وفا نیوز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے فلسطینی اتھارٹی کے واشنگٹن میں تعینات سفیر حسام زملط کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فلسطینی سفیر کو امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے واپس بلایا جارہا ہے۔

ٹرمپ کا متنازع فیصلہ
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا