اسرائیلی طالب علموں کا فوج میں شمولیت سے انکار


سال 2014ء میں قدامت پسند اسرائیلی طالب علم فوجی ڈرافٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔

تل ابيب: اسرائیلی طلبا و طالبات کے ایک گروپ نے اپنے وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی افواج میں لازماً بھرتی ہونے سے انکار کیا ہے۔

اسرائیلی مؤقر اخبار ہاریز کے مطابق 29 دسمبر کو یہ خط لکھا گیا ہے جس میں متعدد طلبا نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) میں شمولیت سے انکار کیا ہے اور اس ضمن میں دو خطوط اسرائیلی وزیرِ اعظم اور ملٹری چیف غادی آئیزنکوٹ کو روانہ کیے گئے ہیں۔

اس خط پر 63 افراد نے دستخط کیے ہیں جن میں 20 سالہ متان ہلمن بھی شامل ہیں جو اس وقت فوج میں بھرتی سے انکار پر جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نسل پرست پالیسی پر عمل پیرا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایک جانب تو اسرائیلیوں کے لیے الگ قانون ہے اور اسی علاقے میں فلسطینیوں کے لیے دوسرا قانون ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ’اسی لیے ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اب فلسطینی عوام پر جبر اور پابندی کا حصہ نہیں بنیں گے جس نے لوگوں کو دو کیمپوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ جب تک لوگوں کو پابند اور قید میں رکھا جائے گا اس وقت تک ہم انسانی اور ملکی حقوق حاصل نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی امن قائم ہوسکے گا،‘۔

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’پہلے کہا گیا تھا کہ یہ کیفیت وقتی ہوگی تاہم اب اسے 50 برس گزرچکے ہیں۔ ہم اب اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنے میں حکومت کی مزید مدد کریں گے‘۔


خیال رہے کہ آئی ڈی ایف ہر سال کم ازکم 7 ہزار نئے سپاہی بھرتی کرتی ہے اور اب اس نے مزید جنگجو فوجیوں کی بھرتی میں اضافہ بھی کیا ہے۔


اب سے دو سال قبل اسرائیل میں ہزاروں معتدل اور قدامت پسند یہودیوں نے فوج میں بھرتی کے خلاف احتجاج کیا تھا جبکہ گزشتہ برس نومبر میں 34 کے قریب مظاہرین کو آئی ڈی ایف بھرتی دفتر کے باہر احتجاج کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔