turkey-rape-case

ترکی میں احتجاج کے بعد ریپ سے متعلق بل واپس

ترکی(ہاٹ لائن) ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اس متنازع بل کو واپس لے لیا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کم سن لڑکی کا ریپ کرنے والا شخص اس لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو وہ سزا سے بچ جائے گا۔ اس مجوزہ قانون کے خلاف ترکی میں احتجاجی مظاہرے شروع ہونے کے بعد اسے واپس لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔منگل کو اس مجوزہ قانون کو منظوری کے لیے حکمراں جماعت کی اکثریتی پارلیمان میں پیش کیا جانا تھا۔حکومت کا اصرار تھا کہ اس قانون سازی کا مقصد بچوں کی شادی سے متعلق جاری روایت سے نمٹنا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کے ریپ کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔ترکی میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ اقوام متحدہ نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس بل کو منظور نہ کرے کیونکہ اس سے ملک کی کم عمری میں شادی اور جنسی ہراس کے واقعات کو روکنے کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ وسیع اتفاق رائے پیدا کرنے اور حزب مخالف کو اس پر اپنی تجاویز کے لیے مزید وقت دینے کے لیے اس بل کو پارلیمان سے واپس لیا گیا ہے۔