Trump

ٹرمپ کا غیر قانونی ووٹنگ کا انکشاف

واشنگٹن (ہاٹ لائن) امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ نومبر کو ہونے والے صدراتی انتخاب میں سے ’اگر ان افراد کو نکال دیا جائے جنھوں نے غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالے‘ تب بھی انھیں تمام مقبول ووٹ حاصل ہیں۔رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام اہم الیکٹورل ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ تاہم انھوں نے اپنے اس دعوے کا دفاع کرنے کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں۔ان کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گرین پارٹی کی صدراتی امیدوار جل سٹین نے ریاست وسکانسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانے کی درخواست جمع کروائی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن کی ٹیم نے دوبارہ گنتی کی حمایت کرنے کا کہا ہے۔ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ سے تقریباً 20 لاکھ زائد مقبول ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے لازمی 270 الیکٹورل ووٹوں سے زائد حال کیے جو کہ ریاستی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔نو منتخب امریکی صدر نے اپنی دیگر ٹوئٹس میں لکھا کہ ’میرے لیے نام نہاد مقبول ووٹ حاصل کرنا الیکٹورل کالج سے کہیں زیادہ آسان ہوتا، اس کے لیے مجھے 15 ریاستوں کی بجائے تین یا چار ریاستوں میں مہم چلانا پڑتی۔‘انھوں نے میڈیا پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’ریاست ورجنیا، نیو ہمشائر اور کیلیفورنیا میں جہاں ہلیری کلنٹن نے کامیابی حاصل کی بڑی تعداد میں ووٹر فراڈ ہوا لیکن میڈیا اس مسلے پر رپورٹ نہیں کر رہا۔‘اس سے قبل اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک حریف ہلیری کلنٹن کو یاد دلایا تھا کہ انھوں نے صدراتی مباحثوں میں رائے عامہ کے نتائج کو تسلیم کرنے کا کہا تھا اور وہ پہلے ہی اپنی شکست کو تسلیم کر چکی ہیں۔واضح رہے کہ اس وقت ہلیری کلنٹن نے انتخابی نتائج کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تسلیم نہ کرنے کے بیان پر ایسا رد عمل ظاہر کیا تھا۔