حکومت زندگیاں بہتر بنانا چاہتی ہے ، لوگ انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ، احسن اقبال

لاہور( ہاٹ لائن )وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت گوادر میں بندرگاہ کےساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے بھی منصوبے شروع کر رہی ہے لیکن بعض روایتی عناصر ان لوگوں پر اپنی اجارہ داری کے خاتمے سے خوفزدہ ہو کر منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔بی بی سی اردو کو دئیے گئے ایک انٹر ویو میں احسن اقبال نے کہا کہ گوادر کے مقامی افراد وہاں ہونے والی ترقی سے بہت خوش اور مطمئن ہیں لیکن بعض مفاد پرست گوادر کی ترقی کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔یقینا وہاں ایسی روایتی قوتیں موجود ہیں جو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر گوادر اقتصادی لحاظ سے ترقی کرتا ہے اور لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور وہاں خوشحالی آ جاتی ہے تو ان روایتی لوگوں کا وہاں کے رہنے والوں پر سے کنٹرول ختم ہو جائے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے علاوہ حکومت گوادر شہر اور وہاں رہنے والوں کی ترقی کے لیے بھی بہت سے منصوبے شروع کر رہی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق ان میں گوادر یونیورسٹی، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ،ہسپتال اور کمیونٹی سنٹرز کے علاوہ شہر کو پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔اس سوال پر کہ بندرگاہ پر تو ترقیاتی کام شروع ہو چکے ہیں جبکہ عوامی فلاح کے منصوبے ابھی صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں کے جواب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ان میں سے بعض منصوبوں کا فائدہ بھی پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔میں حال ہی میں وہاں سے ہو کر آیا ہوں،گوادر ماڈل ہائی سکول میں کئی سو بچے اور بچیاں پڑھ رہے ہیں،اس کے علاوہ وہاں کے لوگ امن کی صورتحال بہتر ہونے سے بھی بہت خوش ہیں۔گوادر میں رہنے والے ماہی گیروں کے روزگارکو نئی بندرگاہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے لاحق خطرات کے بارے میں احسن اقبال نے کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے لیے بھی نئی بندرگار میں نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔مقامی ماہی گیروں کے لیے الگ سے بندرگاہ یعنی فشنگ پورٹ بن رہی ہے جس میں ان کے شکار کو زیادہ دیر تک محفوظ اور ذخیرہ کرنے کی سہولت ہو گی تاکہ وہ اس کی اچھی قیمت وصول کر سکیں۔احسن اقبال نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ گوادر کے مقامی نوجوانوں کو ترقیاتی منصوبوں میں ملازمتوں کے مواقع دینے کا بندوبست نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں یونیورسٹی اور فنی تعلیمی ادارے اسی لیے بنائے گئے ہیں تاکہ وہاں کے لوگ ملازمتوں کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔