کوئٹہ حملے کی دردناک کہانی، بچ جانے والوں کی زبانی

(ہاٹ لائن)کوئٹہ میں پولیس ٹرینگ سینٹر پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ تین حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کے بعد علاقے کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔
حملے کے وقت تربیتی مرکز میں موجود اہلکاروں کا کہنا تھا کہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اُن کے بیرک میں داخل ہوئے۔
ایک زیر تربیت اہلکار نے ذائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’انھوں نے ہمیں دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘
ایک اور کیڈٹ نے بتایا کہ ’حملہ آور ہمارے بیرک میں داخل ہوئے اور انھوں چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ انھوں نے فائرنگ کی۔ ڈر کر ہم نے بیرک میں ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔ پھر میں سڑھیاں چڑھ کر اوپر بھاگ گیا۔‘
بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس تربیتی مرکز میں عموماً 700 سے زائد زیر تربیت اہلکار موجود ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل پاسنگ آؤٹ ہونے کی وجہ سے حملے کے وقت زیر تربیت اہلکاروں کی تعداد کم تھی۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ کے مطابق حملے کے وقت کالج میں زیر تربیت اہلکاروں کی تعداد ڈھائی سو سے تین سو تک تھی۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’حملے کے وقت اُن کی بیرک میں دس سے 12 افراد تھے جبکہ تمام حملہ آوروں نے منہ پر ماسک پہنا ہوا تھا۔‘
حملے کے وقت تربیتی مرکز سے فرار ہونے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’حملے کے وقت میں چھت پر بھاگ گیا اور میں نے اپنے کسی بھی دوست کو زخمی ہوتے نہیں دیکھا۔ شدت پسند اندر گھُس آئے تھے۔‘
ایک اور کیڈٹ نے بتایا کہ ’میں نے تین حملہ آوروں کو اندر آتے ہوئے دیکھا۔ اُن کا چہرہ چھپا ہوا تھا اور اُن کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی۔ وہ فائرنگ کرتے ہوئے ہمارے کمرے میں داخل ہوئے۔‘
کالج میں زیر تربیت اہلکار نے بتایا کہ ’وہ فائرنگ کرتے ہوئے بھاگتے ہوئے ہماری بلڈنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ہم جان بچانے کے لیے چھت پر چڑھ گئے اور باہر چھلانگ لگا دی۔‘