سپریم کورٹ کا حکم ‘ چیئر مین نیب کو پلی بارگیننگ کے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا

اسلام آباد (ہاٹ لائن) سپریم کورٹ نے چیئر مین نیب قمر زمان کو رضا کارانہ واپسی کے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا۔ دس سالوں میں رضا کارانہ رقوم واپس کرنیوالوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ نیب میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق از خود نوٹس کیس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریماکس دیئے کہ نیب وہ کر رہا ہے جو عدالت بھی کرنے کی مجاز نہیں۔ ایک کپ کافی پیو ‘ سارے معاملے سیٹ اور اپنی نوکری پر واپس جاﺅ۔ نیب میں جاﺅ مک مکا کرلو۔ جسٹس عظمت شیخ نے ریمارکس دیئے کہ نیب بازار میں کھڑا آوازیں دے رہا ہے ‘ کرپشن کرلو پھر رضا کارانہ واپسی کرالو۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ نیب اس میں سے 25 فیصد لے لیتا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ایسی بات نہیں ‘ پلی بار گین یا رضا کارانہ واپسی میں نیب کو 25 فیصد نہیں آتا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کیس جائے تو رضا کارانہ واپسی نہیں ‘ اگر کیس نیب میں جائے تو رضا کارانہ واپسی ہے ‘ یہ امتیازی رویہ کیوں ؟ جن کی نیب تفتیش کر رہی ہے ان کی ترقیاں ہو رہی ہیں۔ جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ رضا کارانہ واپسی کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رضا کارانہ واپسی کا قانون بناتے وقت شرم نہیں آئی ‘ یہ قانون کس نے بنایا ؟ باہر ممالک کے لوگ اس قانون پر ہنستے ہیں کہ ایسے قوانین سے ملک چلایا جا رہا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس قانون میں مناسب ترمیم کا کہا لیکن غیر مناسب ترامیم کر دی گئیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تقرریوں کے حوالے سے چیئر مین نیب کا اختیار تو ملک کے چیف ایگزیکٹو سے بھی زیادہ ہے۔ 2002 ءکے بعد سے نیب میں تقرریاں اور ترقیاں کیسے ہوئی؟ نیب کے وکیل نے کہا کہ تقرریاں اور ترقیاں قواعد کے مطابق ہوئیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب کا قواعد پر عملدرآمد حیران کن ہے ‘ ایک انجینئر کو ڈی جی لگایا ہوا ہے ‘ عدالت نے ڈی جی نیب آگاہی مہم عالیہ رشید ‘ میجر ریٹائرڈ برہان ‘ ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد ‘ ڈی جی نیب کے پی میجر طارق اور ڈی جی نیب کوئٹہ کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ عدالت نے اسکوارڈن لیڈر ریٹائرڈ طارق ندیم کی ترقیوں کیخلاف درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔