عمران خان سول ہسپتال کوئٹہ پہنچ گئے ، زخمیوں کی عیادت کی

کوئٹہ (ہاٹ لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سول اسپتال کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کے زخمیوں کی عیادت کی، اس موقع پر ان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے، یہاں دہشت گردی کی روک تھام کےلئےبہتر تیاری ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بتائیں کہ صوبے میں سیکورٹی پر خرچ کئے گئے 30 ارب روپے کہاں گئے؟ عمران خان نے کہا کہ سارا پاکستان بلوچستان کےعوام کےساتھ کھڑا ہے، اس بات کی تفتیش ہونی چاہیے کہ سیکورٹی لیپس کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بلوچستان پرزیادہ توجہ دینا چاہئےتھی، بلوچستان میں غیر ملکی ایجنسیاں سرگرم ہیں، یہاں سے بھارت کا جاسوس بھی پکڑا گیاہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ دو نومبر حتمی فیصلے اور ملک کی تقدیر بدلنےکادن ہے،جب بھی حکومت مشکل میں آتی ہے کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے، کوئی دھماکا ہوجاتا ہے ،نواز شریف کو ملک کے بجائے اپنی کرپشن بچانے کی پڑی ہوئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے دھرنے کی کال واپس نہیں لیں گے ،نوازشریف اپنی کرپشن چھپانے میں مصروف ہیں، اسی لیے نیشنل ایکشن پلان پر صحیح طور پر عملدرآمد نہیں ہورہا، اپنا دورہ ایبٹ آباد سانحہ کوئٹہ کے باعث منسوخ کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مرضی ہوجائے2نومبر کی کال واپس نہیں لیں گے، عسکریت پسندوں کی حمایت سے متعلق حکومتی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں، جب بھی احتجاج کرنے نکلیں تو کہا جاتا ہے دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،کرپشن کے خاتمے کی جنگ میں طاہرالقادری اور ہم ساتھ ساتھ ہیں ۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کو بدنام کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور ایسے چہروں کو سامنے لا کر سزا دی جائے جن کی وجہ سے ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے۔