ہزاروں لوگوں کے پاسپورٹ ضبط

لاہور (ہاٹ لائن ) نادرا نے ان ہزاروں پاکستانیوں کے شناختی کارڈ بلاک کرکے مشرق وسطیٰ اور دوسرے ملکوں میں ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو بیرون ملک سے پاکستان آتے ہیں تو ان کے پاسپورٹ اس بنیاد پر ضبط کرلئے جاتے ہیں کہ ان کے شناختی کارڈ بلاک ہیں اس لئے وہ نادرا سے پہلے کلیرنس لیں بعد میں انہیں پاسپورٹ واپس ملے گا۔ نادرا نے جن لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک کئے ہیں ان کے کوائف تصدیق کیلئے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو بھیج دیئے گئے ہیں لیکن تصدیق کا یہ عمل اتنا تکلیف دہ اور طویل ہے کہ اس عرصے میں لوگوں کے ویزوں کی مدت ختم ہو جاتی ہے اور وہ بروقت اپنی نوکریوں پر نہ پہنچنے کی صورت میں روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ان لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ان میں سے بعض کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے۔ انہیں جیلوں کی ہوا کھانی پڑتی ہے اور کئی کئی دن بعد ضمانت ہوتی ہے۔ شناختی کارڈوں کی تصدیق کا کام انٹیلی جنس کیلئے اضافی بوجھ اس لئے بھی ہے کہ انہیں اپنے دوسرے فرائض حسب معمول ادا کرنے پڑتے ہیں اور ان مصروفیات سے وقت نکال کر یہ ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں۔ اگر حکومت اس کام کیلئے اضافی عملہ تعینات کردیتی تو تصدیقی عمل تیزی سے نپٹایا جاسکتا تھا۔ نادرا میں رابطہ بھی بہت مشکل ہے اس سلسلے میں ایک مثال سامنے آئی ہے کہ ایک شخص شہزاد احمد کو گرفتار کرلیا گیا اور پندرہ دن کے بعد اسے رہائی ملی اس کی 6 نومبر کیلئے کنفرم بکنگ ہے کیونکہ 7 نومبر کو اس کا ویزہ ختم ہو رہا ہے اور اسے اس سے پہلے پہلے ملازمت پر پہنچنا ہے۔ یہ صرف ایک مثال نہیں ہے ایک اطلاع کے مطابق ہزاروں لوگ ایسے ہی مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں جن کے پاسپورٹ ایف آئی اے کے پاس ہیں۔ شناختی کارڈوں کی تصدیق کا عمل طویل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ویزوں کی مدت ختم ہوگئی یا قریب الاختتام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے ملازمتیں اور ویزے حاصل کئے ہیں۔ نادرا کو چاہئے کہ وہ ان معاملات کو تیزی سے نپٹائے لیکن یہ وزیر داخلہ کی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ ہزاروں لوگوں کے مستقبل کی خاطر انہیں احکامات جاری کرنے چاہئیں۔