سپریم کورٹ نے چینی کمپنی کی بولی میں حصہ لینے کی اپیل مستردکردی

اسلام آباد(ہاٹ لائن ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے انڈس دریاپر4320میگاواٹ کے داسوہائیڈروپراجیکٹ کی بولی کے عمل میں حصہ لینے نے چینی کمپنی کی اپیل مستردکردی۔
چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چین کی میسرزپاورکنسٹرکشن کارپویشن کی اپیل کی سماعت کی جس میں اپیل کی گئی تھی کہ واپڈاکو خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں تعمیرکیلئے بولی کے عمل سے پہلے کے قواعد وضوابط کے نتائج سامنے لانے سے روکاجائے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کوبتایاکہ عالمی بینک کے پاس ڈیم کیلئے کسی بھی کمپنی کے نام کی منظوری دینے کااختیارہے اوراس نے وفاقی حکومت کو چینی کمپنی کی اپیل مستردکرنے کوکہا۔دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسارکیاکہ ’درخواست کی گئی ہے یاہدایت تھی‘یہ حکومتی موقف ہے کہ اگر غیرملکی کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرے تو حکومت اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی؟یادرہے کہ سلمان اسلم بٹ نے چینی کمپنی کی طرف سے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ بولی کے عمل میں حصہ لینے کیلئے اس کی نااہلی کیخلاف اقدامات کومعطل کیاجائے۔درخواست گزارنے استدعاکی کہ عالمی بینک کونوٹس جاری کیاجائے جس پر جسٹس عظمت سعید کاکہناتھاکہ جب عالمی بینک کیس میں فریق ہی نہیں تووہ کس طرح نوٹس جاری کرسکتے ہیں۔
یادرہے کہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ دومراحل میں مکمل ہورہاہے،پہلے مرحلے میں 360میگاواٹ کے چھ ہائیڈروپاوریونٹس کی تنصیب ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 9یونٹ لگائے جائیںگے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ واپڈ ا نے 2014ءمیں داسو ڈیم کی تعمیرکااعلان کیا تھا جس کیلئے عالمی بینک گروپ کاحصہ انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن نے فنڈز فراہم کیے اور588ملین ڈالر سے زائد کے پہلے مرحلے کی منظوری دیدی۔