بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کیخلاف موثر کارروائی کا فیصلہ

کوئٹہ (ہاٹ لائن) اعلی سیاسی و عسکر ی قیادت نے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف موثراور غیر معمولی اقدامات کرنے اور بھارت وافغانستان سے بلوچستان میں مداخلت پر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم کا کہناہے کہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر جن دہشت گردوں نے حملہ کیا انہیں معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گورنر ہاﺅس کوئٹہ میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا‘اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علاوہ ، وزیر داخلہ چوہدری نثار ، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ ، وزیر داخلہ بلوچستان، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلی نواب ثنا اللہ زہری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی ایم اوسمیت اعلٰی فوجی اور سول حکام نے بھی شرکت کی‘ اس موقع پر وزیر اعظم نے کوئٹہ کو سیف سٹی بنانے کے لیے کیمروں کی تنصیب کے منصوبے پرعملدرآمد نہ ہونے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے پوچھ گچھ بھی کی جبکہ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جب اداروں کو علم تھا کہ دہشتگردی کا بڑا واقعہ ہو سکتا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیوں نہ اٹھائے گئے۔