عمران خان ”براﺅن صاحب“ بن کر عوام کا معاشی قتل عام چاہتے ہیں‘شہباز شریف

”نیاز ی صاحب کا پاکستان بند کرنے کا اعلان ، سب سے زیادہ مودی خوش“
لاہور ( ہاٹ لائن)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ نیازی صاحب کی جانب سے پاکستان کو بند کرنے کے ناپاک منصوبے سے مودی سے زیادہ کوئی اورخوش نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکنے کیلئے پاکستان کے اندر سے ہی سازشیں کی جا رہی ہیںاور پاکستان کی ترقی کو روکنے کے ناپاک منصوبے بن چکے ہیں ، اسلام آباد ، پاکستان اور سی پیک کو بند کرنے کی سازش کرنے والے دراصل مشرقی سرحد پار بیٹھے پاکستان کے ازلی دشمن کے خوابوں کی تکمیل کر رہے ہیں اور اس سے بڑا ظلم و زیادتی پاکستان اور اس کے 20 کروڑ عوام کے ساتھ ہو نہیں سکتی، عمران خان ”براﺅن صاحب“ بن کر اسلام آباد بند کرا کے پاکستان کے عوام کا معاشی قتل عام چاہتے ہیں لیکن قوم ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی اور پوری قوم ان کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی، ایک لیڈر جسے قوم کو راہ دکھانا ہوتی ہے وہ بدترین قسم کی دروغ گوئی اورانتہائی درجے کے جھوٹ پر اتر آیا ہے، نہ جانے اس نے ایسی لیڈری کہاں سے سیکھی ہے؟ یہ غریب قوم کے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں اور قبضہ مافیا کے لوٹ مار کے پیسوں سے پاکستان کو بند کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، دھرنوں کے ذریعے قوم کی مشکلات اور مسائل بڑھانا چاہتا ہے، قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی چاہتی ہے یا پھر ان عناصر کا ساتھ دے کر ملک کی تباہی چاہتی ہے، دھرنے والے ملک کی معاشی ترقی کا راستہ روک کر غریب کے منہ سے نوالہ چھیننا چاہتے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر ایسے عناصر کا راستہ روکے۔ قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں ملک کو قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنانا ہے یا پھر دھرنوں کے ذریعے سی پیک جیسے منصوبے بند کراکے پاکستان کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے، میرا ایمان ہے کہ قوم اگر فیصلہ کر لے تو کوئی پہاڑ، سمندر یا طوفان منزل کے حصول میں حائل نہیں ہوسکتا، انشاءاللہ پاکستان سے اندھیرے جلد چھٹ جائیں گے اور ملک ترقی و خوشحالی کا سفر کامیابی سے طے کر لے گا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار یہاں ایوان صنعت و تجارت لاہور کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں ”پرامن پاکستان۔خوشحال پاکستان“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پیکیج دے کر مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر بھی دھرنوں کی وجہ سے ہوئی۔ چین کے صدر کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرانے میں مودی یا کسی یہودی کا کردار نہیں تھا اور نہ ہی اس میں کوئی غیرملکی ہاتھ ملوث تھا، یہ سب کچھ ہمارے اپنوں کا کیا دھرا تھا جنہوں نے 2014 میں اسلام آباد میں دھرنا دے کر قوم کا قیمتی وقت برباد کیا۔ یہ وہ عناصر تھے جنہوں نے چینی صدر کے دورے کیلئے پاکستان کے چین کے سفیر کی درخواست کو بھی کوئی اہمیت نہ دی۔ اگریہ عناصر دھرنا نہ دیتے تو چین کے صدر ستمبر 2014 میں پاکستان میں آتے اور معاہدوں پر دستخط ہوتے اور آج کئی ایک منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہوتے۔ لیکن سی پیک اور پاکستان کے دشمنوں نے چین کے صدر کا دورہ ملتوی کرایا اور اپریل 2015 میں چین کے صدر پاکستان آئے اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ ابھی ان معاہدوں کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا۔ سی پیک کے تحت ملک بھر میں توانائی کے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ اگلے سال کئی ایک منصوبوں کی تکمیل سے ملک سے بجلی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ملک کی تاریخ کا پہلا موقع ہوگا کہ منصوبے مقررہ مدت سے پہلے مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ 1320 میگاواٹ کے ساہیوال کول پاور پلانٹ کو دسمبر 2017 میں مکمل ہونا تھا تاہم یہ منصوبہ جون 2017 میں اڑھائی سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں نے 6 ماہ میں توانائی بحران کے خاتمے کا کہا تھا، یقینا میں نے ایسا ہی کہا تھا کیونکہ یہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا تقاضا تھا کہ توانائی بحران کے خاتمے کو جتنی جلد ممکن ہوسکے ختم کیا جائے۔ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں توانائی کے منصوبوں پر بے پناہ محنت سے کام ہو رہا ہے۔ دوسری طرف 900 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہے جس پر 2004-05 میں کام شروع ہوا تھا اور اس کی لاگت کا تخمینہ 800 ملین ڈالر تھا اور یہ منصوبہ ابھی تک زیرتعمیر ہے اور اس کی لاگت بھی بڑھ چکی ہے۔ اس قسم کی مجرمانہ غفلت کا کوئی اور معاشرہ یا ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک اللہ تعالیٰ کا پاکستان کیلئے ایک بڑا انعام ہے اور اسے ٹھکرانا یا اسے بند کرانے کی کوشش کرنا کفران نعمت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں پر نہایت شفاف طریقے سے برق رفتاری کے ساتھ دن رات کام جاری ہے۔ 3600 میگاواٹ کے گیس منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے گئے ہیں اورکوئی ان منصوبوں میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت کردے تو میرا گریبان اور عوام کا ہاتھ ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیازی صاحب! آپ جو پیسے دھرنوں پر خرچ کر کے عوام کی مشکلات بڑھا رہے ہیں، ان پیسوں سے کسی یتیم، بیوہ اور غریب کی مدد کی جاسکتی ہے۔ لیکن آپ کو تو عام آدمی کے حالات سے کوئی سروکار نہیں- آپ کو تو اپنے صوبے خیبر پختونخوا کا بھی علم نہیں کہ وہاں برف پوش پہاڑوں پر بسنے والے انسان کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں -مہران کی وادی ہو یا پنجاب کے میدان یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ ، آپ کو وہاں رہنے والوں کی زندگیوں سے کوئی غرض نہیں – آپ ”برا¶ن صاحب “بن کر پاکستان کے 20 کروڑ عوام کا معاشی قتل عام کرنا چاہتے ہیں – ”برا¶ن صاحب “ قوم ایسا نہیں ہونے دے گی کیونکہ آپ کو تو یہ بھی علم نہیں کہ آپ کے صوبے خیبرپختونخوا کے برف پوش پہاڑوں پر بسنے والوں کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ سی پیک کے ذریعے عام آدمی کی خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو آپ دھرنوں کے ذریعے انہیں بند کرانے کے درپے ہیں۔ نیازی صاحب! آپ کا مطالبہ تھا کہ پانامہ لیکس کے بارے میں ادارے کارروائی کریں۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آ چکا ہے اور وزیراعظم محمد نوازشریف نے اس مقدمے کے قابل سماعت ہونے کے قانونی و تکنیکی پہلوﺅں کا سہارا لینے سے انکار کرکے خود کو اور اپنے بچوں کو عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کے بعد آپ کے احتجاج اور اسلام آباد کو بند کرنے کا کیا جواز باقی بچتا ہے۔ اب بھی احتجاج پر مصر رہنے کا مطلب تو یہی ہے کہ آپ کو عدالت عظمیٰ یا اس کے ججوں پر کوئی اعتماد نہیں۔ اگر ایسا معاملہ ہے تو خدارا قوم کو کھل کر بتا دیں۔ آپ نے انتخابات میں دھاندلی کا بھی الزام لگایا تھا تو اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں عدالتی کمیشن بنایا گیا تو آپ نے کہا تھا کہ مجھے یہ کمیشن منظور ہے اور اس کے سربراہ پر اعتماد ہے۔ لیکن جب اس عدالتی کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تو آپ نے اس کمیشن کے فیصلے کو ماننے سے بھی انکار کر دیا۔ آپ نے پہلے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار چوہدری کو بھی مسیحا قرار دیا تھا اور جب ان سے بھی آپ کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو آپ دشنام طرازی پر اتر آئے۔ عام آدمی کی سواری اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کے بارے میں بھی آپ نے کرپشن کے الزامات لگائے۔ جب عدالت عالیہ نے تاریخی مقامات کے حوالے سے 300 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا تو اس میں کرپشن کا ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے نے پاکستان کے عام آدمی کو آرام دہ، محفوظ اور باکفایت سفری سہولتیں فراہم کرنی ہیں۔ مفاد عامہ کے اس عظیم الشان منصوبے کو مکمل کریں گے۔ عدالتوں کا بے حد احترام ہے اور ان کے فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ مر جاﺅں گا لیکن کبھی نہیں کہوں گا کہ عدالتوں پر اعتماد نہیں، اس لئے دھرنا دوں گا یا پاکستان کو بند کر دوں گا، ایسا کبھی نہیں سوچ سکتا۔ پاکستان کو بند کرنے کی سوچ رکھنے والے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ سی پیک کی صورت میں ہم نے اس کا عملی مشاہدہ کر لیا ہے۔ سی پیک کے تحت منصوبے تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ امانت، دیانت، محنت اور شفافیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہال میں موجود تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری حضرات سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ پورے پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور آپ کو اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بچانے اور خوشحال پاکستان کی منزل حاصل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ امن کے بغیر خوشحالی ممکن نہیں۔ آپ نے دھرنوں، ہڑتالوں اور انتشار کی سیاست سے دور رہ کر مزدور، طالب علم، استاد، وکیل، ڈاکٹر اور عام آدمی کے منصوبوں کے ساتھ کھڑے ہو کر عوام کی ترقی کے دشمنوں کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان 20 کروڑ عوام کا ملک ہے اور اسے ہم نے مل کر آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مسائل کے گرداب سے نکل رہا ہے تو پھر احتجاج اور دھرنوں کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے میرے خلاف بھی کرپشن کے انتہائی جھوٹے، بے بنیاد اور غلط الزامات لگائے جس کا میں نے کل ثبوت کے ساتھ مدلل انداز میں بھرپور جواب دے دیا ہے، میں ان الزامات کا جواب اب اپنی تقریروں میں نہیں بلکہ عدالت میں دوں گا اور اس ضمن میں میرے وکلاءنوٹس تیار کر رہے ہیں اور میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ وہ اس کا جلد فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان کو لوٹا ہے، قرضے معاف کرائے ہیں، لوگوں کی زمینوں پر قبضے کئے ہیں ان کے ریکارڈ موجود ہیں۔ مشرف نے 12 اکتوبر1999ءکو جمہوریت پر شبخون مارا اور ایسے کرپٹ عناصر کو تحفظ دینے کیلئے پلی بارگین کا قانون متعارف کرایا اور اس طرح پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ ہمیں پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل ہمکنار کرکے عوام کی عدالت میں سرخرو ہونا ہے اور اس مقصد کی تکمیل کیلئے دن رات ایک کر دیں گے۔وزیر اعلی نے کہا کہ آج تاجروں اور صنعتکاروںنے واشگاف الفاظ میں اس دھرنے کی بھرپور مذمت کی ہے اور تاجروں نے کہہ دیا ہے کہ وہ اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کا حصہ نہیں بنیں گے اور اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے – صدر ایوان صنعت و تجارت لاہور عبدالباسط نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن معاشی سرگرمیوں میں تسلسل کا اہم جزو ہے۔ کسی کو ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ملک و قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر کوئی ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ ملک و قوم کے نقصان اور دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دے رہا ہے۔ تاجر برادری ترقی کی راہ میں حائل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کرے گی۔ تاجر رہنماﺅں افتخار علی ملک، نعیم میر، خالد پرویز، اجمل بلوچ، عامر فیاض شیخ اور محمد اشرف بھٹی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ناعاقبت اندیش سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے ملک کے مفادات کو قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عوام نے انہیں اپنے مسائل کے حل کیلئے ووٹ کے ذریعے پارلیمنٹ میں بھجوایا ہے لیکن یہ لوگ مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے سڑکوں پر آ کر اپنے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔ تاجر برادری اس ملک کی بقا اور سلامتی کی ذمہ دار ہے۔ پاکستان ہمارا گھر ہے اور جو ہمارے گھر کو نقصان پہنچانے کی بات کرتا ہے وہ دراصل اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والا پاکستان کا دشمن ہے اور محب وطن تاجر برادری کسی کو پاکستان کے مفادات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی اور کسی کو بھی راستے روکنے اور کاروبار بند کرنے نہیں دے گی۔ اگر پاکستان کا آئین ان عناصر کو احتجاج کی اجازت دیتا ہے تو وہ آئین ہمارے حقوق کا بھی محافظ ہے۔ صوبائی وزرائ، اراکین اسمبلی، ملک بھر سے تاجر تنظیموں کے نمائندوں، صنعتکاروں، سرمایہ کاروں، دانشوروں اور تاجروں کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی۔