قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ بنایا جائے: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

چناب نگر(ہاٹ لائن ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء اور مقررین نے کہا ہے کہ قادیانی اقلیت کے گستاخانہ لٹریچر، توہین آمیز کتابوں اور شر انگیز رسائل کو کھلی چھٹی دینا اور امتناع قادیانیت آرڈنینس کی خلاف ورزی پر قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ نہ بنانا بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ لا دین عناصر اور قادیانی این جی اوز کے زہریلے پروپیگنڈے کی بنیاد پر کسی گستاخ رسول کو تخت دار پر نہ لٹکانا ملکی آئین کے نفاذ سے انحراف اور غداری کے مترادف ہے۔ قانون توہین رسالت اور قادیانیوں کے متعلق آئینی ترامیم کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ دینی مدارس، علماء کرام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف ارباب اقتدار کا نفرت انگیز رویہ اور امتیازی سلوک پر مبنی اقدامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قادیانی ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے۔ اسلامی ممالک میں شیعہ سنی اختلاف کو فسادات کی شکل دے کر اسلامی ملکوں کے قدرتی و معدنی وسائل پر غاصبانہ قبضے کی سامراجی سازشوں کا ادراک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ۳۷۹۱ء کا آئین اور ملک بھر کی مذہبی جماعتیں ملک کو سیکولر سٹیٹ بنانے کے ایجنڈے کے خلاف مزاحمتی کردار اجاگر کرتی رہیں گی۔ بیرون ممالک میں عقیدہ ختم نبوت کے فروغ اور فتنہ قادیانیت کے منفی پروپیگنڈا کے خاتمہ کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ کانفرنس کی افتتاحی نشست کی صدارت صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد، مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی ، صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد نے کی جبکہ کانفرنس سے مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا مفتی محمد حسن صاحب لاہور، مولانا اللہ وسایا، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا عظمت اﷲ بنوں، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد،مولانا غلام حسین، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد یونس آزاد، مولانا محمد خبیب، مولانا عبدلنعیم رحمانی، مولانا مختار احمد،مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا غلام حسین، مولانا حافظ محمد انس ، مولانا قاضٰی عبدالخالق، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا محمد رضوان قاسمی،مولانا محمد ایوب خان ڈسکہ، مولانا جمیل احمد بندھانی، ڈاکٹر سیف الرحمن، مولانا عبدالسلام قریشی، قاری عبدالرشید، قاری محمد انور انصر، مولانا عبداللطیف اشرفی، حافظ مبشر محمود فیصل آباد، مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم، حافظ محمد مہتاب ، فیصل بلال گیلانی، حافظ محمد شریف منچن آبادی سمیت متعدد مقتدر شخصیات نے شرکت و خطاب کیا، مقررین نے کہا کہ آزاد کشمیر،اور گلگت بلتستان کے علاقہ جات میں قادیانی گروہ فلاحی کاموں کی آڑ میں ارتداد پھیلا کر نوجوان نسل کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہے۔ حکومت قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو کنڑول کرے۔ مولانا عزیزالرحمن جالندھری نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا دفاع کرنے والے قدرت کی طرف سے حضور اکرمﷺ کی ذاتی خدمت پر مامور ہیں۔ اور قیامت کے دن سب سے زیادہ قربت اور بلندی درجات انہیں نصیب ہوں گے۔علماء کرام اور تمام مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کو طشت از بام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
تحفظ ختم نبوت