lhc

پنجاب بھرمیں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسروں کی بھرتیاں روکنے کا حکم

لاہور(ہاٹ لائن ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے پنجاب بھرمیں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسروں کی بھرتیاں تاحکم ثانی روک د ی ہیں۔فاضل جج نے یہ عبوری حکم امتناعی عائشہ انور کی درخواست پر جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور محکمہ تعلیم سے جواب بھی طلب کرلیاہے ۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کی خاتون کی تعلیمی اہلیت ایم اے ہے اور اس نے پنجاب حکومت کی 19جنوری 2016ء کی پالیسی کے مطابق اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کی بھرتی کیلئے درخواست دی۔محکمہ تعلیم نے 9 ستمبر2016ء کو اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کی بھرتی پالیسی میں ترمیم کردی جس کے مطابق امیدواروں کیلئے ایف ایس سی سرٹیفکیٹ کی شرط لازمی قرار دی گئی۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کی بھرتی کی پالیسی میں ترمیم کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیاجائے۔عدالتی حکم کے باوجود محکمہ تعلیم کی جانب سے جواب داخل نہ کرایا گیاجس پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد صوبہ بھر میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی بھرتیاں روکنے کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کردیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور محکمہ تعلیم سے جواب طلب کر لیاہے۔