پنجاب کے 30ہزار پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچر کے ذریعے سلسلہ تدریس چلائے جانے کا انکشاف

لاہور(ہاٹ لائن ) صوبے بھر کے 30 ہزار سے زائد پرائمری سکولوں میں کئی سالوں سے سنگل ٹیچر کے ذریعے سلسلہ تدریس چلایا جانے کا انکشاف، جو کہ نونہالان قوم کے مستقبل پر جہاں سوالیہ نشان وہاں تعلیمی انقلاب کا نعرہ محض خواب بن گیا ہے۔ یہ سکولز کئی سالوں سے سنگل ٹیچر کے ذریعے اور مدارس ے بغیر سلسلہ تدریس رکھے ہوئے ہیں، تاہم پنجاب حکومت نے کئی سال بعد اس طرف توجہ کرتے ہوئے پنجاب کے سرکاری سکولوں میں 82 ہزار اساتذہ (ایجوکیٹرز بھرتی) کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے ، جس کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے باقاعدہ منظوری حاصل کی جا رہی ہے۔ محکمہ سکولز ایجوکیشن کے ذرائع نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی صورتحال اور کوالٹی آف ایجوکیشن کے لئے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے ملنے والی معلومات کے مطابق لاہور سمیت صوبے بھر میں قائم 53 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں 30 ہزار ایسے پرائمری سکولوں کی تعداد بتائی گئی ہے جہاں سنگل ٹیچر تعینات ہے اور کئی سالوں س یہ سکولز مدارس کے بغیر چلائے جا رہے ہیں جس کے باعث کوالٹی آف ایجوکیشن انتہائی سست روی کا شکار ہے اور سکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح میں ہر سال 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پیک کے امتحانات کے نتائج میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے بھی بتائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پرائمری سکول میں کم سے کم چار اور زیادہ سے زیادہ چھ ٹیچرز کی تعیناتی تعلیمی منصوبے کا حصہ ہے جبکہ پرائمری سکولز میں کئی کئی سالوں سے اساتذہ کی شدید کمی چلی آ رہی ہے جس سے پانچویں اور آٹھویں جماعتوں (پیک) کے امتحانات بھی متاثر ہو رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کوالٹی آف ایجوکیشن بھی سست روی کا سکار ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو تعلیمی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ اساتذہ کی پائی جانے والی شدید کمی سے تعلیمی انقلاب لانے میں سخت دشواری کا سامنا ہے، جس پر پنجاب حکومت نے کئی سال بعد اس جانب توجہ دے دی ہے اور سرکاری سکولوں میں مرحلہ وار82 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلہ میں جس کے لئے صوبے بھر میں ایک لاکھ 20 ہزار اساتذہ (ایجوکیٹرز) بھرتی کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں پرائمری سکولوں میں کم سے کم 46 ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے جس میں 56 ہزار اساتذہ اور دوسرے مرحلہ میں 26 ہزار سے 30 ہزاراساتذہ بھرتی کیے جائیں گے جس کے لئے تعلیم کا معیار بی اے بی ایڈ، بی ایس آنرز اور ہائیر ایجوکیشن کی تعلیم کے اضافی نمبر ہوں گے اور اس میں 46 ہزار اساتذہ پرائمری سکولوں کے لئے گریڈ 9 میں بھرتی کیے جا رہے ہیں،جبکہ گریڈ 14 اور گریڈ16 میں مڈل اورہائی سکولوں سمیت سیکنڈری سکولوں کے لئے اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے جن کو ایجوکیٹرز کا نام دیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سیکرٹری تعلیم عبدالجبار شاہین نے سمری تیار کر کے وزیر اعلیٰ کو منظوری کے لئے بھجوا دی ہے جس میں منظوری کے بعد دسمبر2016ء اور جنوری 2017ء میں پہلے مرحلہ کی بھرتی کا عمل مکمل کیاجائے گا جبکہ دوسرے مرحلہ میں سال2017ء کے بجٹ کے بعد بھرتی کی جائے گی۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس سے اساتذہ کی کمی دور اور کوالٹی آف ایجوکیشن میں بہتری آئے گی جس سے ڈراپ آؤٹ کی شرح ختم ہو کر رہ جائے گی۔