پاکستان کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے، نصیر احمد بھٹہ

لاہور (ہاٹ لائن )ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان اور مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کے صدر چودھری نصیر احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کو قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے ، شہروں کو بند کرنے کا عمل ایک فوجداری جرم ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ، ملک اس وقت ترقی کی منازل طے کر رہا ہے لیکن ملک کی ترقی ناقدین کو پسند نہیں آرہی ، شہر کو بند کرنے کے حوالے سے کسی کا آئینی حق سلب نہیں کیا جا سکتا عوام کے حقوق کو ترجیح بنیادوں پر دیکھنا ہو گا ۔ وہ گذشتہ روز مسلم لیگ ن لائرز فورم لاہور ڈویژن کی جانب سے ہائی کورٹ بار کے کراچی ہال میں ’’ 2نومبر کا اقدام ،پاکستان کاعدم استحکام ‘‘ کے موضوع پر سیمینار میں وکلا ء سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر پنجاب ڈویژن سے صدر ظفر شریف جوئیہ ، سید فریاد علی چودھری ، لاہور ڈویژن کے صدر ظفر عباس گیلانی ، اور لاہور کے صدر چودھری محمد اشتیاق سمیت زاہد ملک معظم خان ، دیگر عہدیداروں نے شرکت کی ۔ نصیر احمد بھٹہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے کسی معاملہ مین غفلت کی ہے یا آئین کے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو میرے خیال میں انہیں پورا قانون پڑھنا چاہیے ہم قانونی لوگ ہیں ہم قانون کی بات کریں گے تو اصل بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں لکھا ہے کہ قانون پر عمل کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ اس لیے نقص امن کے خدشہ کے تحت دفعہ 144لگائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 90یہ احساس دلاتا ہے کہ آپ دوسروں کا حق سلب نہیں کر سکتے شہر بند کرنا غیر آئینی اقدام ہے انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس وکلاء کی ٹیم نہیں ہے تو وہ آئین پڑھ لیں کہ جہاں دوسروں کے حقوق شروع ہوتے ہیں وہاں آپ کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں نصیر بھٹہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اگر شہر بند کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ان 5لاکھ بچے جو سکولوں کالجوں میں پڑھتے ہیں ان کے حقوق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا انہوں ان کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرنا ہو گا جو 5لاکھ ملازم اپنے بچوں کی روٹی روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں ۔ پنجاب کے صدر ظفر شریف جوئیہ ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اس وقت نہایت نازک موڑ سے گذر رہا ہے نئے پاکستان کو بنانے والوں نے پاکستان کو غیر مستحکم کر کے رکھ دیا ہے پاکستان وکلاء نے بنایا تھا وکلاء ہی انہیں بچائیں گے ۔ لاہور ڈویژن کے صدر ظفر عباس گیلانی نے شرکاء سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کے خلاف قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر ایک کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن شہر کو بند کرنا ایک جرم ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے انہوں نے کہا کہ یہ شہروں کو بند کرنے کی دھمکیاں دینے والے دوسروں کا حق متاثر کر رہے ہیں یہ بدمعاشی اور غنڈا گردی ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت موجود ہے اس کے تحت احتجاج کیا جائے انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کے مترادف ہے ۔ شرکاء سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور دو نومبر کے اقدام کی بھر پور مذمت کی ۔