مطالبات نہ مانے گئے تو لانگ مارچ کریں گے. بلاول بھٹو ذرداری

کراچی (ہاٹ لائن) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو لانگ مارچ کی دھمکی دے دی.ھکومت سے 4 مطالبات کرتے ہوئے بلاول نےکہا ہے کہ اگر یہ مطالبات نہ مانے گئے تو پھر 27 دسمبر کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کروں گا۔ مودی اپنے ظلم چھپانے کے لیے پاکستان پرالزامات لگارہا ہے مظلوم کشمیری ا پنی خودمختاری کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔میاں صاحب نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ کارساز کے مقام پر سلام شہدا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے چار مطالبات کیے۔ پہلا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے ۔ انہوں نے دوسرا مطالبہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا پاناما پر احتساب کا بل منظور کیا جائے ۔ تیسرا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی سی پیک کی قرار داد پر عمل کیا جائے اور چوتھا مطالبہ انہوں نے فوری طور پر وزیر خارجہ کی تعیناتی کا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مطالبات نہیں مانے جاتے تو 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں لانگ مارچ کا اعلان کروں گا جس کے بعد دما دم مست قلندر ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مودی اپنے ظلم چھپانے کے لیے پاکستان پرالزامات لگارہا ہے ، مودی کس منہ سے دہشت گردی پرلیکچردے رہا ہے؟ اور وہ کون ہوتا ہے ہمیں دہشت گرد کہنے والا؟مودی کو توامریکا کا ویزا بھی نہیں ملتا تھاپہلے وہ گجرات کا قصائی تھا اب کشمیرکا قصائی بن گیا ہے۔ مودی اپنا ظلم چھپانے کے لیے پاکستان اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہتا ہے ۔میں کہتا رہا کہ مودی ہندوانتہاپسند ہے،اس سے خیرکی امید مت رکھو لیکن عمران خان نجی دورے کے دوران مودی سے ملاقات کی گزارش کرتے ہیں جبکہ نوازشریف مودی کو اپنی نواسی کی شادی میں دعوت دیتے ہیں۔ ریاست کے تعلقات ریاست سے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرکی صورت حال پراے پی سی اورپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلانے کا کہا تھا لیکن بد قسمتی سے کچھ لوگوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا جبکہ حکومت نے کشمیرسے متعلق قرارداد کوسینسرکردیا۔ مظلوم کشمیری ا پنی خودمختاری کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ میں ان شریفوں پرتنقید کرتا رہوں گا ، میاں صاحب کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کمزورہورہا ہے۔ میاں صاحب پی آئی اے اور پاکستان سٹیل کوذاتی کاروبارکی طرح چلانا چاہتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ حق اورباطل کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی،ہم کل بھی مظلوموں کے ساتھ تھے اور آج بھی ساتھ ہیں ۔ اٹھارہ اکتوبراور27 دسمبر کے سارے شہیدوں کا وارث ہوں۔ بی بی کا بیٹا کہتا رہا کہ شمالی وزیرستان سمیت پورے ملک میں آپریشن کرو لیکن وہ آپریشن کیلئے نہیں مان رہے تھے اور دہشت گرد پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے ۔ ہمارے بزرگ میاں صاحبان اور چچا عمران کہتے ہیں یہ امریکا کی جنگ ہے۔آپ دہشت گردوں پرہاتھ نہیں ڈالتے اورکسانوں کے خلاف کیسزبناتے ہیں۔ میاں صاحب نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد میں بری طرح ناکام رہے ہیں، نیشنل ایکشن پلان توپورے ملک کیلئے تھا پھر ملک بھرمیں اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا؟۔