سپریم کورٹ بار کے انتخابات ،عاصمہ جہانگیر کو چھ سال بعد شکست

لاہور(ہاٹ لائن)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں پروفیشنل گروپ نے عاصمہ جہانگیر کے انڈی پینڈنٹ گروپ کو چھ سال بعد شکست دیدی ،غیر حتمی نتائج کے مطابق پرو فیشنل گروپ کے امیدوار رشید اے رضوی نے انڈیپنڈنٹ گروپ کے فاروق ایچ نائیک کوشکست دےکر صدر کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ سیکرٹری کی نشست پر بھی پروفیشنل گروپ کے امیدوار آفتاب باجوہ نے کامیابی حاصل کر لی، پروفیشنل گروپ کی کامیابی کی خوشی میں حامی وکلاءنے بھرپور جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخاب کے لئے پولنگ صبح نو بجے شروع ہو جو شام پانچ بجے تک جاری رہی ۔غیر حتمی نتائج کے مطابق پروفیشنل گروپ کے رشید اے رضوی 1289 ووٹ لے کر صدر سپریم کورٹ بار منتخب ہو گئے جبکہ انکے مدمقابل انڈی پینڈنٹ گروپ کے فاروق ایچ نائیک نے 1060 ووٹ حاصل کئے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 6 ووٹ مسترد کر دئیے گئے جس کے باعث رشید اے رضوی نے فاروق نائیک کو 229 ووٹوں سے شکست دی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق پروفیشنل گروپ کے آفتاب باجوہ نے انڈی پینڈنٹ گروپ کے صفدر حسین تارڑ کو 115و وٹوں سے شکست دے کر سیکرٹری کی نشست جیتی ۔آفتاب باجوہ نے 1060 جبکہ صفدر تارڑ نے 945 ووٹ حاصل کئے ۔اس نشست پر 32 ووٹ مسترد ہوئے ۔۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں ٹرن آٹ مجموعی طور پر 81 فیصد رہا۔پروفیشنل گروپ کے صدر اور سیکرٹری کی نشست پر کامیابی کی خوشیوں نے حامی وکلاءنے بھرپور جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔ اس موقع پر وکلاءنے ایک دوسرے کو کندھوں پر اٹھا کر بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔